بیت بازی

by Other Authors

Page 232 of 871

بیت بازی — Page 232

232 ۴۹ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۶ ۵۷ ۵۸ گو آرہی ہے میرے ہی گیتوں کی بازگشت نغمہ سرا ہیں دشت و جبل؛ آپ کیلئے گر ہیں تمام کھل گئیں؛ جز آرزوئے وصل رکھ چھوڑا ہے اس عقدے کا حل؛ آپ کیلئے گل بوٹوں کلیوں پتوں سے کانٹوں سے خوشبو آنے لگی اک عنبر بار تصور نے؛ یادوں کا چمن مہکایا ہے گل رنگ شفق کے پیراہن میں؟ اک یاد کو جھولے دے دے کر؛ ۵۹ 7۔۶۱ قوس ۶۲ گم قزح کی پینگوں پر ہے پگلے نے دل بہلایا ہے گردآلود تھا پتہ پتہ؛ کلی کلی کجلائی ہوئی ٹوٹ کے یادیں برسیں؛ ہر بُوٹا نہلا یا ساری رات گشته اسیران کو مولا کی خاطر مدت سے فقیر ایک دعا مانگ رہا ہے گھٹا کرم کی ہجومِ بلا سے سے اٹھی کرامت اک دلِ درد آشنا سے اٹھی ہے گوتم بدھا بڑھی لایا؛ سب رشیوں نے درس دکھایا عیسی اُترا، مہدی آیا؛ جو سب نبیوں کا مظہر تھا گواہ دو ہیں؛ دو ہاتھوں سے چھاتیاں پیٹو خسوف شمس و قمر ہار ہار کر دیکھو گو قول کے کچے ہو؛ ہمیشہ سے مگر ان اوصاف حمیدہ میں تو کچے نہیں لگتے کلام محمود که ۶۳ ۶۴ ۶۵ ۶۶ ۶۷ گو کہ اس دن پھیل جائے گی؛ تباہی چار سو جبکہ پھر آئیں گے یارو! زلزلہ آنے کے دن گمراہ ہوئے ہو؟ باز آؤ گناہ گاروں کے دردِ دل کی؛ یہی بس اک قرآن ہی دوا ہے کیا عقل تمہاری کو ہوا ہے ہے طریقت؛ یہی ہے ساغر، جو حق نما ہے بہار جاوداں ہے گیا اسلام سے وقت خزاں ہے ہوئی پیدا گریبانوں میں اپنے منہ تو ڈالو ذرا سوچو! اگر کچھ بھی دیا ہے ނ مرہم کافور زخم دل گرمی اُلفت سے ہے یہ کل پائے کون گلوں پر پڑگئی کیا اوس دید روئے جاناں کوئی دیکھو تو کیسا شور برپا ہے عنادِل میں گفتگوئے عاشقاں سُن سُن کے آخر یہ کہا بات تو چھوٹی سی تھی؛ اتنا کیا اطناب کیوں گرتے پڑتے درمولی رسا ہو جاؤ اور پروانے کی مانند؛ فدا ہو جاؤ