بیت بازی — Page 175
175 ۴۶ ۴۷ شاید کہ پھر اُمید کی پیدا ہوئی جھلگ لکھنوں تک آکے، رُوح ہماری؛ مچل گئی شکوہ کا کیا سوال ہے، اُن کا عتاب بھی ہے مہر منہ سے میں داد خواہ تھا؛ دل میں میں شرمسار تھا شکرِ خُدا گزرگئی ناز و نیاز میں ہی عمر مجھ کو بھی ان سے عشق تھا ؛ اُن کو بھی مجھ سے پیار تھا بنا تا ایک فسانہ بنا جو رہے فسانہ ۴۹ شاخ طوبی آشیانه ۵۰ شکوہ قسمت کے چکر میں نہ پھنس اپنی غفلت اور نادانی تو دیکھ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ شَرٌ و فسادِ دہر؛ بڑھا جا رہا ہے آج اس کے مٹانے کو کوئی دانا ہی چاہئے شمع نور آسمانی کو دیا جس نے بجھا باب وحی حق کا جس نے بند بالگل کر دیا شہید ہوں گے جو؛ اسلام کی حفاظت میں ملاقی ہوں گے وہی؛ اپنے دلستاں سے آج شمع پروانوں کو نصیب ہو دن کہو ان کو وہ نہیں راتیں شب ہجر ختم ہو گی؟ کہ نہ ہوگی یا الہی! مجھے اتنا تو بتا دے؛ کروں انتظار کب تک؟ شمس؛ پہلے دن سے کہلاتا ہے شمس بدر ہوتا ہے مگر پہلے ہلال شیر و بکری بھی ہیں اک گھاٹ پر پانی پیتے نہیں ممکن کہ کوئی ترچھی نظر سے دیکھے شان و شوکت کو تیری دیکھ کے حساد و شریر خونِ دل پیتے ہیں؛ اور کھاتے ہیں وہ غصہ وغم شیطان کی حکومت؛ مٹ جائے اس جہاں سے حاکم تمام دنیا پہ میرا مصطفیٰ ہو شکوہ جورِ فلک؛ کب تک رہے گا بر زباں دیکھ تو اب دوسرا رُخ بھی ذرا تصویر کا مصیبت ہے دمڑی کی بڑھیا؛ ٹکا سر منڈائی شیاطیں کا قبضہ ہے؛ مسلم کے دل پر خدا کی دہائی؛ خدا کی دُہائی شاہ و گدا کی آنکھ میں؛ سُرمہ کا کام دے وہ جان؛ جو کہ راہِ خدا میں غبار ہو شجر کفر کا کاٹنا ہے شاگرد نے جو پایا؛ اُستاد کی دولت ہے احمد کو محمد سے تم کیسے جُدا مجھے