بیت بازی — Page 104
104 جلن بہت ہے تو ہوتی پھرے؟ نہ نکلے گی بھڑاس سینے کی؛ بگ بگ ہزار کر دیکھو جو سینہ شمشیر کو بھی چیر کے رکھ دے دنیا ترے ہاتھوں میں وہ شمشیر بھی دیکھے جو کم آکھیا؟ حاضر سائیں کہہ کے چھاتی ڈائی جس دیاں سارے پاپڑ ویلے؛ سارے جھمیلے جھلتے جھوٹو! تم نے ٹھیک الزام دھرا ہوگا اللہ والوں ہی نے کفر بکا ہوگا جاتی جاتی جب ہو میری جان! خدا حافظ و ناصر حافظ ہو میری جان! خدا حافظ و ناصر مولا رہے سلطان؛ خدا حافظ و ناصر ہو نگهبان؛ خدا حافظ و ناصر جاؤ سدھارو تم بھی سدھا رو رو کے تم کو کوئے اس سنسار کی ریت یہی ہے؛ جو پائے سوکھوئے تصور کے نہاں خانہ میں ھنگامہ عشق ہم کیا کرتے تو کچھ اُس کا نہ چرچا ہوتا جانتا کون ہمارے دل شوریدہ کا خواب دیکھتا کون؛ جو ہم دونوں نے دیکھا ہوتا جلد بازار سے لے آتا تھا تازہ مچھلی گرم بھاپ اُٹھتی تھی مچھلی سے نہایت مزیدار جس کی خاطر وہ ہمیں کرتا تھا پیار؟ اے وائے! وہ بھی غمگین ہے؛ اس کیلئے بے حد ہائے! جن کے اخلاص اور پیار کی ہر ادا؛ بے صدا جن کی آنکھوں کا کرب و بلا؛ بے غرض، بے ریا، دلنشیں، دلار با کربلا ہے، دل عاشقاں کیلئے جب قیص نے کہا؛ تمہیں امی بلاتی ہیں امی کا نام سنتے ہی؛ بس وہ ٹھٹھر گیا جو غیر احمدی سندھی ہیں؛ ملاؤں کے ڈر سے وہ چھپ کے احمدی گوٹھوں میں چل کے دیکھتے ہیں جب بھی وہ آیا ساتھ نغمہ سرا آرزوؤں کا طائفہ جب گیا؛ حسرتوں کا اس کے ساتھ ایک غمناک جمگھٹا ん تھا تھا ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۵ ۱۹۶ ۱۹۷ ۱۹۸ ۱۹۹ ۲۰۰ ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۴ ۲۰۵ ۲۰۶ کلام محمود ۲۰۷ جس ذات سے پالا پڑتا ہے وہ دل کو دیکھنے والی ہے جو پیاروں کے کانوں میں کہتے ہیں لوگ میٹھی سی باتیں سنادے ہمیں وہ جو آپ کی خاطر ہے بنا؟ آپ کی شے ہے میرا تو نہیں کچھ بھی؟ یہ ہیں آپ کے املاک جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب! پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۰