بیت بازی

by Other Authors

Page 87 of 871

بیت بازی — Page 87

87 ۲۶۰ تن سے کیا جان جدا رہتی ہے؛ یا جان سے تن راستہ چھوڑ دو دربانو! مجھے جانے دو ۲۶۱ مو وہ قادر ہے؛ کہ تیرا کوئی ہمسر ہی نہیں میں وہ بے بس ہوں کہ بے در بھی ہوں بے پر ہی نہیں تیری نگاہ لطف اُتارے گی مجھ کو یار کٹتے ہیں مجھ سے عشق کے یہ بحر و بر کہاں ۲۶۲ ۲۶۳ ۲۶۵ ۲۶۶ ترے در پر ہی؛ میری جان نکلے خدایا! وہ نہ میرا آرمان نکلے نکلے ۲۶۴ تیرے ہاتھوں سے؛ اے نفسِ دَنی سُن! جنھیں دیکھا؟ وہی نالان تری نسبت سُنے تھے جس قدر عیب سارے جھوٹ اور بہتان نکلے تم ہو میری راحتِ جاں ؛ تم سے وابستہ ہے ارماں زور سے پکڑوں گا داماں میں تمھیں جانے نہ دوں گا تم تو میرے ہو چکے ہو؛ تم میرے گھر کے دیے ہو میرے دل میں بس رہے ہو میں تمھیں جانے نہ دوں گا تو ایک ہو ساری دنیا میں ؛ کوئی ساجھی اور شریک نہ ہو تو سب دنیا کو دے لیکن خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو تری درگہ میں اک اُمید لے کر تیرا اک بندہ ۲۶۷ ۲۶۸ ۲۶۹ ۲۷۰ تو پر پھیر کر یہی تدبیر سوجھی تری ۲۷۱ تری درگاه میں؛ وہ آخر الامر تقدیر کا عاصی ہے آیا کھٹکھٹایا ور تمع دل میں لے کر ہے یہ آیا ۲۷۲ تیری رحمت کی دیواروں کے اندر کلام اللہ کا مل جائے سایہ ۲۷۳ تو دھونی محبت کی کما کر ۲۷۷ وہ نازل جلا دے سب جہالت اور مایا افسانہ ۲۷۴ ترا الہام بھی ہو ان تیرا اکرام بھی ہو؛ ان کے شامل ۲۷۵ تری نصیحتیں بے کار؛ تیرے مگر فضول یہ چھیڑ، جا کے کسی اور جا پہ؟ ۲۷۶ تیرا خیال کدھر ہے؛ یہ سوچ اے ناداں! رہا ہے دُور کبھی شمع سے بھی پروانہ تھی ماحصل حیات کا اک سعی ناتمام کائی گئی غریب حوادث کی دھار پر ۲۷۸ تازہ کرتے تھے یاد اُس کی؛ پھول یاد آتا تھا؛ گلعذار کا سے درخت بھی رقصاں گویا قسمت اپنی تھے نازاں تیری زمین پاک ہے؛ کو گناہ سے محفوظ خاک ہے تری؛ ہر روسیاہ سے تابش رخ انور ہے روز و شب ظلمت کدہ میں لوٹ رہا ہوں میں دم بہ کب ۲۷۹ تھے طَرَب ۲۸۰ ۲۸۱ زیر رنگ