تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 24

تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 15

15 مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ - وَاتَّقُوا اللهَ ـ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (الحجرات:13) کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بکثرت ظن سے اجتناب کیا کرو۔یقیناً بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔اور تجسس نہ کیا کرو۔اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ مومنوں میں محبت، پیار اور بھائی چارہ پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ حسن ظن سے پیدا ہوتا ہے۔پس فرمایا کہ بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی گناہ کی طرف لے جاتی ہے، جو نہ صرف انسان کی اپنی ذات کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جو معاشرے کے امن کو بھی برباد کر دیتا ہے۔دلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ایک ایسا گناہ جو انسان بعض اوقات اپنی انا کی تسکین کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ تجسس نہ کرو، تجس بھی بعض اوقات بدلنی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور جب انسان کسی کے بارہ میں تجس کر رہا ہوتا ہے اس کے بعد بھی جب پوری معلومات نہیں مانتیں تو جو معلومات ملتی ہیں انہی کو بنیاد بنا کر پھر بدظنیاں اور بڑھ جاتی ہیں اور بدظنی میں بعض اوقات انسان اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ بعض لوگوں کی حالت دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی ہیں، خدمت کرنے والے بھی ہیں اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جاہل اجڈ عورتیں بھی نہیں کرتی ہوں گی۔چھوٹے چھوٹے شکووں کو اتنا زیادہ اپنے اوپر سوار کر لیا جاتا ہے۔بلکہ