تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 24

تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 12

12 تقوی ہی ہے جو پھر مزید نیکیوں کے بیج ہوتا چلا جاتا ہے۔اگر کوئی چیز ایک مومن کو بار بار دوہرانے کی ضرورت ہے اور دوہرانی چاہئے تو وہ نیکیوں کی طرف توجہ اور نیکیوں کا فروغ ہے۔اور اگر کسی چیز سے بچنا ہے تو وہ گناہ اور زیادتی ہے۔ایک مومن کی شان نہیں کہ اقسم اس سے سرزد ہو۔ایسا گناہ سرزد ہو جو جان بوجھ کر کیا جائے۔جو زیادتی کرنے والوں سے زیادتی کرواتا چلا جائے۔زیادتی کرنے والوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔وہ ظلموں کی انتہا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اتم اور عُدْوَان یا بار بار کئے جانے والے گناہ اور زیادتی سے نہیں رکو گے تو یا درکھو اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔ایسی خوبصورت تعلیم ہوتے ہوئے پھر یہ الزام ( دین حق ) پر لگایا جاتا ہے کہ ظلم و زیادتی سے (دین حق ) پھیلا ہے اور ( دین حق ) زیادتی کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے اور آئے دن کہیں نہ کہیں ان ملکوں میں ( دین حق ) کے خلاف کچھ نہ کچھ شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔لیکن آج کل اگر ہم دیکھیں تو مغرب میں کیا ہو رہا ہے۔عراق وغیرہ پر یا بعض اور ملکوں میں جو ظلم کئے جارہے ہیں،عراق کے ظلموں کا حال تو ہم نے سن لیا جو پبلک انکوائری ہورہی ہے اس میں بہت ساروں نے تسلیم کیا کہ یہ ظلم تھا اور ہے لیکن ظلم کے باوجود بعض ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ بالکل ٹھیک ہوا ہے اور ہونا چاہئے تھا۔لیکن ( دین حق ) کہتا ہے کہ نہیں ، تقویٰ کا یہ کام نہیں۔جہاں تمہاری غلطی ہے اس غلطی کو مانو اور جہاں صلح صفائی کی ضرورت ہے یا نیک کاموں میں بڑھنے کی ضرورت ہے وہاں تقویٰ سے کام لیتے ہوئے نیکیوں کو پھیلاؤ۔زیادتیوں سے اپنے آپ