تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 2
2 بنائے۔یا ایسا عمل یا سوچ جو کسی کو نیکیاں بجالانے سے روکے رکھے۔یا کوئی بھی غیر قانونی حرکت۔ذنب ایک لفظ ہے جس کا معنی بھی گناہ کا ہے لیکن اہل لغت کے نزدیک ذنب اور اہم میں یہ فرق ہے کہ بعض یہ کہتے ہیں کہ ذنب ارادہ بھی اور غیر ارادی طور پر دونوں طرح ہو سکتا ہے لیکن اہم جو ہے وہ عموماً ارادہ ہوتا ہے۔بہر حال اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہم کے حوالے سے دو باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ایک حکم یہ ہے کہ تم گناہ کی ظاہری صورت سے بھی بچو اور اس کے باطن سے بھی بچو۔ہر کام کرنے سے پہلے غور کرو۔بعض چیزیں اور بعض عمل ایسے ہوتے ہیں جو واضح طور پر نظر آرہے ہوتے ہیں کہ غلط ہیں اور یہ شیطانی کام ہیں۔لیکن دوسری قسم کے وہ عمل یا با تیں بھی ہیں جو بظاہر تو اچھے نظر آ رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ بدنتائج پر منتج ہوتے ہیں۔ان کی اصل حقیقت چھپی ہوتی ہے۔شیطان کہتا ہے کہ یہ کام کرل کوئی ایسا بڑا گناہ نہیں لیکن کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس کام سے یہ ایسا گند ہے جس میں پھنس گیا ہوں اس سے نکلنا مشکل ہے۔اور پھر ایسا چکر چلتا ہے کہ ایک کے بعد دوسرا گناہ سرزد ہوتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ پر چلنے والے کا کام ہے کہ ظاہر برائیاں جو ہیں ان پر بھی نظر رکھے اور باطن اور حقیقی برائیاں جو ہیں جن کے بدنتائج نکل سکتے ہیں ان پر بھی نظر رکھے۔ہر کام کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ سے مدد چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے شر سے بچائے ، جو بھی اس کام میں شر ہے اس سے بچائے۔