تجسس، بدظنی اور غیبت سے اجتناب کریں — Page 6
6 فرمایا ” اب ذرا غور کرو۔نماز کی ابتدا اذان سے شروع ہوتی ہے۔اذان اللہ اکبر سے شروع ہوتی ہے۔یعنی اللہ کے نام سے شروع ہو کر لَا اِلهَ إِلَّا اللہ یعنی اللہ ہی پرختم ہوتی ہے۔یہ فخر اسلامی عبادت ہی کو ہے کہ اس میں اوّل و آخر اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اور فرمایا کہ " میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملت میں نہیں ہے۔پس نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالی کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں“۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحه 37 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه) پس اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے پر غور کریں کہ انسان کا اسم اعظم استقامت ہے تو ایک کوشش کے ساتھ اس نماز کی تلاش میں رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے تو اسے وہ نماز ادا کرنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھتی ہے، جو فحشاء سے روکتی ہے، جو حسنات کا وارث بناتی ہے۔ظاہری اور باطنی فواحش سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ایسی نمازوں کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری مزید راہنمائی فرمائی ہے۔فرمایا کہ: نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بدعملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے۔