بدرگاہ ذیشانؐ — Page 34
34 حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رکھ پیش نظر وہ وقت بہن! جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیوار میں روتی تھیں جب دنیا میں تو آتی تھی جب باپ کی جھوٹی غیرت کا خوں جوش میں آنے لگتا تھا جس طرح جنا ہے سانپ کوئی یوں ماں تیری گھبراتی تھی یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی کیا تیری قدر و قیمت تھی! کچھ سوچ تری کیا عزت تھی تھا موت سے بدتر وہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی عورت ہونا تھی سخت خطا۔تھے تجھ پر سارے جبر روا یہ جرم نہ بخشا جاتا تھا۔تا مرگ سزائیں پاتی تھی گویا تو کنکر پتھر تھی، احساس نہ تھا، جذبات نہ تھے تو ہین وہ اپنی یاد تو کر ترکہ میں بانٹی جاتی تھی وہ رحمت عالم آتا ہے۔تیرا حامی ہو جاتا ہے تو بھی انساں کہلاتی ہے۔سب تیرے حق دلواتا ہے ان ظلموں سے چھڑواتا ہے بھیج درُود اُس محسن پر تو دن میں سو سو بار پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار صلِ على محمد و علی ال محمد و بارک وسلم علیہ ( در عدن )