بدرگاہ ذیشانؐ — Page 33
33 گلشن میں پھول باغوں میں پھل آپ کیلئے جھیلوں پر کھل رہے ہیں گول آپ کے لئے ا میری بھی آرزو ہے۔اجازت ملے تو میں اشکوں سے اک پر وؤں غزل آپ کے لئے پر مہ گاں بنیں۔حکایت دل کے لئے قلم ہور وشنائی۔آنکھوں کا حل آپ کے لئے ان آنسوؤں کو پھولوں پر گرنے کا اذن ہو آنکھوں میں جو ر ہے ہیں نیکل آپ کے لئے دل آپ کا ہے۔آپ کی جان۔آپ کا بدن غم بھی لگا ہے جان کسکن آپ کے لئے میں آپ ہی کا ہوں۔وہ میری زندگی نہیں جس زندگی کے آج نہ کل آپ کے لئے اب حسرتیں بھی ہیں وہاں۔آرزوؤں نے خوابوں میں جو بنائے محل آپ کے لئے گو آ رہی ہے میرے ہی گیتوں کی بازگشت نغمہ سرا ہیں دشت و جبل آپ کے لئے گر ہیں تمام گھل گئیں بجز آرزوئے وصل رکھ چھوڑا ہے اس مقدے کا حل آپ کے لئے گل آنے کا جو وعدہ تھا۔آکر تو دیکھتے تڑپا تھا کوئی کس طرح کل آپ کے لئے ہر لمحہ فراق ہے عمر دراز غم گزرانہ چین سے کوئی پل آپ کے لئے آجائے کہ سکھیاں یہ مل مل کے گائیں گیت موسم گئے ہیں کتنے بدل آپ کے لئے ہم جیسوں کے بھی دید کے سامان ہو گئے ظاہر ہوا تھا حُسنِ ازل آپ کے لئے