بدرگاہ ذیشانؐ — Page 96
96 مسجد میں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے خندہ زن اُن پہ شبستاں ہیں رسولِ عربی آدمیت جنہیں دُنیا کو سکھانا ہے وہی آدمیت سے گریزاں ہیں رسولِ عربی ہے چمن زاروں پر کانٹوں کا تسلط ہر سُو پھول پژمردہ و حیراں ہیں رسولِ عربی دیکھ کر آپ کے گلزاروں کی یہ حالت زار طعنہ زن خار مغیلاں ہیں رسول عربی ہم غریبوں کی بھی فریادرسی ہو جائے آپ غم خوار غریباں ہیں رسولِ عربی ہے قصور اپنا بس اتنا ہی کہ ہم دنیا میں حامل مشعل قرآں ہیں رسولِ عربی آپ کے دین کی تبلیغ واشاعت کے لئے مال و جاں حاضر وقرباں ہیں رسولِ عربی ساری دُنیا تیرے نوروں سے منور کر دیں یہ ارادے یہی ارماں ہیں رسول عربی ( دل کی دنیا )