بدرگاہ ذیشانؐ — Page 94
94 محبوب خدا ، مخدوم ملک کیا شان ہے کملی والے کی ہے قادر مطلق یاروں میں جبریل ہے خدمت گاروں میں ساحل پر سفینے آپہنچے وہ اسم گرامی کام آیا موجوں کی تلاطم خیزی میں ، طوفانوں میں منجدھاروں میں لاریب یہ سارا لطف و کرم ہے ساقی کوثر کا صادق تحریر ہمارا نام ہوا جو وحدت کے میخواروں میں محمد صدیق امرتسری نور حق ہے نور تابان محمد مصطفی رحمة للعالمین شان محمد مصطفی رشک صد گلشن ہے بُستان محمد مصطفیٰ وحی ربانی ہے فرمانِ محمد مصطفی اس سے بڑھکر اور کیا ہوگی فضیلت آپ کی رب کعبہ ہے ثنا خوانِ محمد مصطفی خاتم جملہ رسولاں پیشوائے جن وانس الله الله عظمت و شان محمد مصطفی تا ابد تشنہ لبانِ نوع انساں کے لئے موجزن ہے بحرِ فیضانِ محمد مصطفی غم نہ کر ہیں درپئے آزار گرا اپنے بھی آج چھوٹنے پائے نہ دامان محمد مصطفی شب بسر کی صبح ہوتے ہی مسلماں ہو گیا دشمن حق تھا جو مہمان محمد مصطفی کون ہے جو کر سکے تسخیر یوں سرکش قلوب کس نه باشد جز غلامانِ محمد مصطفی خود خدا جس کا منزل اور محافظ ہے مدام شرع کا حل ہے وہ قرآنِ محمد مصطفی پا نہیں سکتا کبھی وہ حق تعالیٰ کی رضا !! ہو جسے حاصل نہ رضوان محمد مصطفی