بدرگاہ ذیشانؐ — Page 71
71 وہ جسکی چشم سحر انگیز سے تابانیاں پھوٹیں وہ جسکے حسن سے عالم کا ہر اک پھول شرمایا یہ اُسکی تابش حسن کرامت تھی کہ کیا شے تھی جھکایا اپنا سر خورشید نے اور چاند گہنایا جہاں پر بُت پرستی کی و باشد ت سے جاری تھی وہاں توحید کا پرچم بڑی عظمت سے ہرایا ہراک ملت پر اپنی شفقتوں کے پھول برسائے ہراک وادی پر ابر سرمدی کا رنگ ٹپکایا سلام اُس پر نسدا جو خانہ دل کا اُجالا ہے سلام اسپر کہ جس سے ذات حق کا بول بالا ہے حنیف ادیب (الفرقان جولائی ۱۹۷۵ء) والی کون و مکاں عالی صفات مشعل نوروہدایت تیری ذات تیرے دم سے یہ جہانِ مہروماہ تیرے دم سے یہ نظام کائنات تیرے دم سے زندگی تا بندہ تر تیرے دم سے ضوفشاں شمع حیات تیرے دم سے رونق کون و مکاں تیرے دم سے بزم ہستی کو ثبات تیری ہستی باعث تسکین جاں چشمه تسنیم و کوثر تیری بات علم تیرا وہ سمندر ہے اتھاہ ، پا نہیں سکتی جسے انساں کی ذات ہر عمل تیرا ہے بے مثل و نظیر وجہ فخر انس و جن وشش جہات یاد تیری باعث تسکین دل ذکر تیرا خالق عرفانِ ذات