بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 32 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 32

32 وہ احسان کا افسوں پھونکا موہ لیا دل اپنے عدو کا کب دیکھا تھا پہلے کسی نے حُسن کا پیکر اس خُو بُو کا نخوت کو ایثار میں بدلا۔ہر نفرت کو پیار میں بدلا - عاشق جان نثار میں بدلا - - پیاسا تھا جو خار لہو کا اُس کا ظہور ظہور خدا کا۔دکھلایا یوں نور خدا کا بتکدہ ہائے لات و منات پہ طاری کر دیا عالم ہوکا توڑ دیا ظلمات کا گھیرا۔دُور کیا ایک ایک اندھیرا ا جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً گاڑ دیا توحید کا پرچم صلى الله عليه وسلم ا شعر میں یہاں وقف کرنا ہے اس لئے باطل کی بجائے باطل پڑھا جائے