بدرگاہ ذیشانؐ — Page 127
127 اُسکی عاشق ہے خود رب اکبر کی ذات اُس کے زیرنگیں ہے یہ کل کائنات اُس نے ثابت کیا وصل کی ایک رات اُس کے پاؤں کی ہے دھول یہ نیلی فام اُس پہ لاکھوں در و داُس پہ لاکھوں سلام تھے کبھی جبرئیل امین راز داں اور کبھی یونہی آپس میں سرگوشیاں جلوتیں اُس کی ہرطور خلوت نشان اُس کی صبح حسین اُس کی تابندہ شام اُس پہ لاکھوں دروداس پہ لاکھوں سلام محترمہ طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ " تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے " آج تو مال ہی کیا جان لٹا دی ہم نے تیرے عشاق میں یوں نام لکھایا ہم نے تیری الفت کے خزانے کو بچانے کے لئے دکھ کا یہ درد بھی سینے سے لگایا ہم نے دل جو چیرو گے تو پاؤ گے محبت اسکی آج یہ راز عدو کو بھی بتایا ہم نے