بدرگاہ ذیشانؐ — Page 125
125 اُس پہ لاکھوں درود اُس پہ لاکھوں سلام درس ضبط و تحمل کا یوں بھی دیا وہ کہ جو آپ کی جان لینے چلا ایسے دشمن سے بھی درگزر کر دیا ہاتھ میں گرچہ تلوار تھی بے نیام اُس کے قدموں تلے یہ خدائی ہوئی عرش تک اک اُس کی رسائی ہوئی گل فضا نور میں تھی نہائی ہوئی تھے خدا اور حبیب خدا ہم کلام ذاتِ باری نے یہ تک تو فرما دیا جو محمد کا ہے وہ ہمارا ہوا وہ ملا تو سمجھ لو خدا مل گیا کس قدر پیار ہے کس قدر احترام اُس پہ لاکھوں دروداُس پہ لاکھوں سلام اُس پہ لاکھوں درود اُس پہ لاکھوں سلام رحسین خُلق اُس میں ہی موجود ہے وہ جو روز ازل سے ہی موعود ہے ماسوا اُس کے ہر راہ مسدود ہے میری ہر سانس کا اُس کو پہنچے سلام اُس پہ لاکھوں در و داُس پہ لاکھوں سلام