بدرگاہ ذیشانؐ — Page 124
124 محتر مہامۃ القدوس بیگم صاحبہ وہ جو احمد بھی ہے اور محمد بھی ہے وہ مؤید بھی ہے اور مؤید بھی ہے وہ جو واحد نہیں ہے یہ واحد بھی ہے ایک اُسی کو تو حاصل ہوا یہ مقام اُس پہ لاکھوں در و داُس پہ لاکھوں سلام سوچا جب وجہ وجد تخلیق دنیا ہے کیا عرش سے تب ہی آنے لگی یہ ندا مصطفى مصطفى مصطفى مصطفى وہ ہے خير البشر خیر الانام وہ ہے اُس پہ لاکھوں درود اُس پہ لاکھوں سلام اُسکی سیرت حسین اسکی صورت حسین کوئی اُس سا نہ تھا کوئی اُس سا نہیں اُس کا ہر قول ہر فعل ہے دلنشین خوش وضع ، خوش ادا، خوش نوا، خوش کلام اُس پہ لاکھوں درود اُس پہ لاکھوں سلام زندہ رہنے کا عورت کو حق دے دیا اُس کے اُلجھے مقدر کو سلجھا دیا خُلد کو اُس کے قدموں تلے کر دیا اُس نے عورت کو بخشا نمایاں مقام اُس پہ لاکھوں درود اُس پہ لاکھوں سلام