بدرسوم و بدعات — Page 9
4 3 پھر فرماتے ہیں:۔"کتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النار ہے۔شریعت تو اسی بات کا نام ہے کہ جو کچھ آنحضرت علیہ نے دیا ہے اُسے لے لے اور جس بات سے منع کیا ہے اس سے ہے۔“ سنت اور بدعت میں فرق ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 128) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اس وقت لوگوں نے سنت اور بدعت میں سخت غلطی کھائی ہوئی ہے اور ان کو ایک خطر ناک دھو کہ لگا ہوا ہے وہ سنت اور بدعت میں کوئی تمیز نہیں کر سکتے۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر خود اپنی مرضی کے موافق بہت سی راہیں خود ایجاد کر لی ہیں اور ان کو اپنی زندگی کے لئے کافی راہنما سمجھتے ہیں۔حالانکہ وہ ان کو گمراہ کرنے والی چیزیں ہیں۔جب آدمی سنت اور بدعت میں تمیز کرلے اور سنت پر قدم مارے تو وہ خطرات سے بچ سکتا ہے لیکن جو فرق نہیں کرتا اور سنت کو بدعت کے ساتھ ملاتا ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہوسکتا۔“ قرآن اور سنت کے بعد اجتہاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 389) اللہ تعالیٰ نے جو کچھ قرآن شریف میں بیان فرمایا ہے وہ بالکل واضح اور بین ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے کر کے دکھا دیا ہے آپ کی زندگی کامل نمونہ ہے لیکن باوجود اس کے ایک حصہ اجتہاد کا بھی ہے جہاں انسان واضح طور پر قرآن شریف یا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی کمزوری کی وجہ سے کوئی بات نہ پاسکے تو اس کو اجتہاد سے کام لینا چاہئے مثلاً شادیوں میں جو بھاجی دی جاتی ہے اگر اس کی غرض صرف یہی ہے کہ تا دوسروں پر اپنی شیخی اور بڑائی کا اظہار کیا جاوے تو یہ ریا کاری اور تکبر کے لئے ہوگی اس لئے حرام ہے۔لیکن اگر کوئی شخص محض اسی نیت سے کہ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ کا عملی اظہار کرے اور مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ پر عمل کرنے کے لئے دوسرے لوگوں سے سلوک کرنے کے لئے دے تو یہ حرام نہیں۔پس جب کوئی شخص اس نیت سے تقریب پیدا کرتا ہے اور اس میں معاوضہ ملحوظ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا غرض ہوتی ہے تو پھر وہ ایک سونہیں خواہ ایک لا کھ کو کھا نا دے منع نہیں۔اصل مدعا نیت پر ہے نیت اگر خراب اور فاسد ہو تو ایک جائز اور حلال فعل کو بھی حرام بنا دیتی ہے ایک قصہ مشہور ہے۔ایک بزرگ نے دعوت کی اور اس نے چالیس چراغ روشن کئے بعض آدمیوں نے کہا کہ اس قدرا اسراف نہیں کرنا چاہئے اس نے کہا کہ جو چراغ میں نے ریا کاری سے روشن کیا ہے اسے بجھا دو کوشش کی گئی ایک بھی نہ بجھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی فعل ہوتا ہے اور دو آدمی اس کو کرتے ہیں ایک اس فعل کو کرنے میں مرتکب معاصی کا ہوتا ہے اور دوسرا ثواب کا۔اور یہ فرق نیتوں کے اختلاف سے پیدا ہو جاتا ہے۔لکھا ہے کہ بدر کی لڑائی میں ایک شخص مسلمانوں کی طرف سے نکلا جو ا کٹڑ اکڑ کر چلتا تھا اروصاف ظاہر ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا تو فرمایا کہ یہ وضع خدا تعالیٰ کی نگاہ میں معیوب ہے مگر اس وقت محبوب ہے کیونکہ اس وقت اسلام کی شان اور ا شوکت کا اظہار اور فریق مخالف پر ایک رعب پیدا ہوتا ہے پس ایسی بہت سی مثالیں اور نظیر میں ملیں گی جن سے آخر کار جا کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ بالكل صحیح ہے" ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 390،389)