بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 73 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 73

127 126 بسنت آ جائے تو گڈی اُڑانا فرض ہے ان پر عبادت جان کر اس کو منانا فرض ہے ان پر لگانا لائٹیں دیگیں پکانا فرض ہے ان پر یونہی شام و سحر پیچے لڑانا فرض ہے ان پر ادھر بچوں بڑوں کے ڈور نے کاٹے گلے کتنے اور آتش بازیوں کے شوق میں چہرے جلے کتنے یونہی رسمیں نبھانا سال بھر ایمان ہے ان کا شریک کار سارے شغل میں شیطان ہے ان کا یہ بازی سب پہ لے جائیں ، یہی ارمان ہے ان کا نہ ہرگز ناک ہو نیچی یہی فرمان ہے ان کا سجاتے ہیں جو خود ماتھے جھومر روسیاہی کا تماشا دیکھ لیں گے جلد ہی اپنی تباہی کا یہ اونچی ناک والے آخرت میں منہ چھپائیں گے فرشتے روز محشر داغ ناکوں پر لگائیں گے یہاں دو چار دن کی واہ وا بے شک کمائیں گے خدا سے نام لیکن فاسق و فاجر رکھائیں گے بہت ناداں ہیں جو اس باپ کی گٹھری کو ڈھوتے ہیں گھڑی بھر کے لئے ہنستے مگر آخر کو روتے ہیں کی غلامی کاش ان کے خوں میں رچ جائے تو پھر لازم ہے ان کو ہر غلامی سے حیا آئے خدا کا فضل ہی عرشی غلاظت سے بچا پائے یہاں پھسلا قدم جس کا ، پھسلتا ہی چلا جائے بھرے گھر کو یہ رسمیں مائل افلاس کرتی ہیں یہ کینسر کی طرح قوموں کا ستیاناس کرتی ہیں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبه )