بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 53 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 53

88 89 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔دعاؤں کو سننے والا اور قدرت رکھنے والا خدا ہی ہے۔اس کو یقین کرنا یہی اسلام ہے۔جو اس کو چھوڑتا ہے وہ اسلام کو چھوڑتا ہے۔پھر کس قدر قابل شرم یہ امر ہے کہ "یا شیخ عبد القادر جیلانی " تو کہتے ہیں یا محمد ( ﷺ ) یا ابو بکر یا عمر نہیں کہتے البتہ "یا علی " کہنے والے ان کے بھائی موجود ہیں۔یہ شرک ہے کہ ایک تخصیص بلا وجہ کی جاوے جب خدا کے سوا کسی چیز کی محبت بڑھ جاتی ہے تو پھر انسان صم بکم ہو جاتا ہے جو اسلام کے خلاف ہے جب توحید کے خلاف چلے تو پھر مسلمان کیسا ؟ تعجب کی بات ہے کہ جن لوگوں کو یہ خدا کا حصہ دار بناتے ہیں خود ان کو بھی یہ مقام تو حید ہی کے ماننے سے ملا تھا اگر وہ بھی ایسے "یا " کہنے والے ہوتے تو ان کو یہ مقام ہرگز نہ ملتا۔بلکہ انہوں نے خدائے تعالیٰ کی اطاعت اختیار کی تب یہ رتبہ ان کو ملا۔یہ لوگ شیعوں اور عیسائیوں کی طرح ایک قسم کا شرک کرتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 604) | قبروں کا طواف اور عرس طریق سنت نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔شریعت تو اسی بات کا نام ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ نے دیا ہے اسے لے لے اور جس بات سے منع کیا ہے اس سے ہے اب اس وقت قبروں کا طواف کرتے ہیں ان کو مسجد بنایا ہوا ہے عرس وغیرہ ایسے جلسے نہ منہاج نبوت ہے نہ طریق سنت ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 129) اولیاء کی یاد سے رحمت نازل ہوتی ہے اور خود خدا نے بھی انبیاء کے تذکرہ کی ترغیب دی ہے۔لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی بدعات مل جاویں جن سے توحید میں خلل واقع ہو تو وہ جائز نہیں۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحه 159) پھر بعض لوگ محفل مولود میں اچانک کھڑے ہو جاتے ہیں کہ محفل میں آنحضرت ﷺ کی روح آگئی ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں۔مجلسوں میں طرح طرح کے بدطینت اور بدمعاش لوگ ہوتے ہیں۔وہاں آپ کی روح کیسے آسکتی ہے؟ اور کہاں لکھا ہے کہ روح آتی ہے؟۔وَلَا تَقْفُ مَالَيْسَ لَكَ به عِلْمٌ۔(بنی اسرائیل: 37) ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 160 ) ” خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان نبی کے ساتھ رکھو۔آج کل کے مولویوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہوتے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشاء کے خلاف ہیں۔اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تو وہ ایک وعظ ہے آنحضرت علی اللہ کی بعثت ، پیدائش اور و وفات کا ذکر ہو تو موجب ثواب ہے۔ہم مجاز نہیں کہ اپنی شریعت یا کتاب بنالیویں۔“ تعویذ گنڈے کرنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 159، 160 ) مولود خوانی ایک شخص نے مولود خوانی پر سوال کیا۔فرمایا:۔و منحضرت ﷺ کا تذکرہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ انبیاء اور کرنا ہے۔“ تعویذ گنڈے کرنا ہمارا کام نہیں۔ہمارا کام تو صرف اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 505)