بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 36 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 36

56 55 وہ خوشی اور شکرانے کے جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔“ مہندی خطبات مسرور جلد 3 صفحہ 334) حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ للہ تعالی فرماتے ہیں۔فی ذاتہ اس میں قباحت نہیں کہ اس موقع پر بچی کی سہیلیاں اکٹھی ہوں اور خوشی منائیں طبعی اظہار تک اس کو رکھا جائے تو اس میں حرج نہیں لیکن اگر اس کو رسم بنا لیا جائے کہ باہر سے دلہا والے ضرور مہندی لے کر چلیں تو ظاہر ہے کہ اس میں ضر ور تصنع پایا جاتا ہے بچی کی مہندی گھر پر ہی تیار ہونی چاہئے اس کے لئے ایک چھوٹی سی بارات بنانے کا رواج قباحتیں پیدا کرے گا اس موقع پر دولہا والوں کی طرف سے با قاعدہ ایک وفد بنا کر حاضر ہونا اور اس موقع پر اس کے لوازمات کے طور پر پر تکلف کھانے وغیرہ وغیرہ یہ جب ایک رسم بن جائے تو سوسائٹی پر بوجھ بن جاتا ہے۔“ (الفضل 26 جون 2002ء) مہندی بطور رسم نہ ہو حضرت خلیفہ اسیح الرابع " نے ایک شادی کارڈ جس پر مہندی کا دعوت نامہ تھا ملنے پر 25-03-1998 کو ایک خط تحریر فرمایا جس میں نہایت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔آپ نے فرمایا: ” آپ نے اپنی بیٹی کی شادی کا دعوت نامہ بھیجا ہے۔لیکن آپ کو اتنی بھی باک نہیں کہ اس کے ساتھ آپ نے مجھے بھی مہندی کی رسم میں شمولیت کا کارڈ اٹھا کر بھجوا دیا ہے۔حالانکہ ایسی رسمیں سراسر سلسلہ کی روایات کے خلاف ہیں اور میری واضح ہدایات ہیں کہ بطور رسم ہرگز مہندی وغیرہ کی تقریب نہیں ہونی چاہئے۔ہاں گھر میں بہنیں اور چند سہیلیاں مل کر بے تکلف مجالس لگا لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔یہ میری واضح ہدایت ہے۔لیکن آپ نہ صرف اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ مجھے بھی اس کے لئے دعوتی کارڈ بھجوا رہے ہیں۔اللہ آپ کو سمجھ دے۔“ (ماہنامہ مصباح جولائی اگست 2009 صفحہ 25،24) مہندی پر زیادہ خرچ اور دعوتوں سے بچیں حضرت خلیفہ المسح الخمس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔مہندی کی ایک رسم ہے۔اس کو بھی شادی جتنی اہمیت دی جانے لگی ہے۔اس پر دعوتیں ہوتی ہیں۔کارڈ چھپوائے جاتے ہیں۔سٹیج سجائے جاتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ کئی دن دعوتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور شادی سے پہلے ہی جاری ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ کئی ہفتہ پہلے جاری ہو جاتا ہے۔اور ہر دن نیا سٹیج بھی سج رہا ہوتا ہے اور پھر اس بات پر بھی تبصرے ہوتے ہیں کہ آج اتنے کھانے پکے اور آج اتنے کھانے پکے۔یہ سب رسومات ہیں جنہوں نے وسعت نہ رکھنے والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ایسے لوگ پھر قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔غیر احمدی تو یہ کرتے ہی تھے اب بعض احمدی گھرانوں میں بھی بہت بڑھ بڑھ کر ان لغو اور بیہودہ رسومات پر عمل ہو رہا ہے یا بعض خاندان اس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔بجائے اس کے کہ زمانہ کے امام کی بات مان کر رسومات سے بچتے۔معاشرہ کے پیچھے چل کر ان رسومات میں جکڑتے چلے جارہے ہیں۔پہلے میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مہندی کی رسم پر ضرورت سے زیادہ خرچ اور بڑی بڑی دعوتوں سے ہمیں رکنا چاہئے۔اب میں کھل کر کہہ رہا ہوں کہ ان بیہودہ رسوم ورواج کے پیچھے نہ چلیں اور اسے بند کر دیں۔“ خطبه جمعه فرمودہ 15 جنوری 2010ء)