بدرسوم و بدعات — Page 19
24 23 باپ دادا کی رسموں کو چھوڑنا تو پسند نہیں کرتیں۔کہتی ہیں اگر ہم نے رسمیں نہ کیں تو محلہ والے نام رکھیں گے لیکن خدا تعالیٰ ان کا نام رکھے تو اس کی انہیں پرواہ نہیں ہوتی۔محلہ والوں کی انہیں بڑی فکر ہوتی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ انہیں کا فر اور فاسق قرار دے تو اس کا کچھ خیال نہیں ہوتا۔کہتی ہیں یہ در تا وا ہے۔اسے ہم چھوڑ نہیں سکتے۔حالانکہ قائم خدا تعالیٰ ہی کا ورتا وا رہے گا۔باقی سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔“ اوڑھنی والیوں کے پھول صفحہ 38) وہ زنجیر کیا ہے؟ وہ رسوم ہیں جن کا تعلق قوم کے ساتھ ہوتا ہے۔مثلاً بیٹے کا بیاہ کرنا ہے تو خواہ پاس کچھ نہ ہو قرض لے کر رسوم پوری کرنی ہوتی ہیں۔یہ زنجیر ہوتی ہے جو کا فر کو جکڑے رہتی ہے اور وہ اس سے علیحدہ نہیں ہونے پاتا۔“ اوڑھنی والیوں کے پھول۔صفحہ 180 ) فضول رسمیں قوم کی گردن میں زنجیریں اور طوق ہوتے ہیں جو اسے ذلت اور ادبار کے گڑھے میں گرا دیتے ہیں۔“ ( خطبہ نکاح 27 مارچ 1931 ء۔خطبات محمود جلد 3 صفحہ 301) احمدی اٹھ کہ وقت خدمت ہے یاد کرتا ہے تجھ کو رب عباد خدمت دیں ہوئی ہے تیرے سپرد دور کرنا ہے تو نے شر و فساد قصر کفر و ضلالت و بدعت تیرے ہاتھوں سے ہوگا اب برباد ( کلام محمود ص89،88) حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحم اللہ تعالی اگر تم قرب الہی چاہتے ہو تو رسوم اور بدعات کی بجائے قرآنی راہ ہدایت اور صراط مستقیم تمہیں اختیار کرنا پڑے گا۔جب تک رسوم و بدعات کے دروازے تم اپنے پر بند نہیں کر لیتے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے تم پر کھل نہیں سکتے۔“ خطبات ناصر جلد اول ص 378، 379) کوئی احمدی رسوم و رواج کی پابندی کرنے والا نہ ہو ”اگر ہم بدعتوں اور رسموں کے پابندرہیں گے اور اندھیرے میں ہی پڑے رہیں گے تو ہر گز اس نور سے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے۔اور نہ ہی اس نور کے ذریعہ سے جو سنت اور جو اسوہ حسنہ دنیا میں قائم کیا گیا ہے ہم اس کی اتباع کر سکیں گے اور اگر ہم ایسانہ کرسکیں گے تو نہ ہمیں اس دنیا میں فلاح حاصل ہوگی اور نہ ہی اُخروی زندگی میں۔پس ہر احمدی پر ، ہر احمدی خاندان اور ہر احمدی تنظیم پر یہ فرض ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو رسوم اور بدعتوں سے بچائے رکھے، محفوظ رکھے اور اس بات کی بھی نگرانی کرے کہ کوئی احمدی بھی رسوم ورواج کی پابندی کرنے والا نہ ہو اور بدعات میں پھنسا ہوا نہ ہو۔دنیا میں رسوم و بدعات کا عجیب جال بچھا ہوا ہے۔جب آدمی ان پر غور کرتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے کہ خدا نے جس مخلوق (انسان) کواشرف المخلوقات بنایا اور جس پر آسمانی رفعتوں کے دروازے کھولے وہ کس طرح اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتا ہے اور پھر کس طرح نور کی بجائے ظلمات میں آرام و راحت پاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو ان کو رسوم و بدعات سے محفوظ رکھے اور توفیق دے کہ ہم اس کی منشاء کے مطابق اس آیہ کریمہ میں جس ایمان اور جس تعزیر اور جس نصرت اور جس اتباع کا حکم دیا گیا ہے اس کی پیروی