بدرسوم و بدعات — Page 18
22 21 حضرت خلیفہ اسیح الاول نور اللہ مرقدہ رسوم ورواج یا عادت اللہ کا باغی بنادیتی ہیں انسان میں ایک مرض ہے جس میں یہ ہمیشہ اللہ کا باغی بن جاتا ہے اور اللہ کے رسول اور نبیوں اور اس کے اولو العزموں اور ولیوں اور صدیقوں کو جھٹلاتا ہے۔وہ مرض عادت، رسم و رواج اور دم نقد ضرورت یا کوئی خیالی ضرورت ہے۔یہ چار چیزیں میں نے دیکھا ہے، چاہے کتنی نصیحتیں کرو جب وہ اپنی عادت کے خلاف کوئی بات دیکھے گا یا رسم کے خلاف یا ضرورت کے خلاف تو اس سے بچنے کے لئے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کرے گا۔“ (خطبات نور صفحه 650) حضرت خلیق است المانی نوراللہ مرقدہ رسم و رواج کا گند فطرت کو خراب کر دیتا ہے فطرت انسانی کو تو اللہ تعالیٰ نے پاک بنایا ہے لیکن اس میں رسم و رواج کا گندمل کر اسے خراب کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے ذریعہ سے پھر فطرت کے پاک تقاضوں کو جگا دیتا ہے اور طبائع میں ایک ایسا جوش پیدا کر دیتا ہے کہ جس طرح تیز بھٹی یا بڑھتے ہوئے سیلاب میں ہوتا ہے اس ہیجان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طبائع کا جمود جاتا رہتا ہے۔ایک طرف فطرت میں بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔دوسری طرف رسوم و عادات کی محبت میں جوش آتا ہے اس حرکت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بجائے فطرت صحیحہ اور رسوم و عادات کے ایک ملے جلے ڈلے کے یہ دونوں چیزیں الگ الگ ہو جاتی ہیں اور انسان کچھ عرصہ کے لئے دو متضاد جذبات کا حامل ہو جاتا ہے۔آخر جس کی فطرت زیادہ پاک ہوتی ہے وہ رسوم و عادات کی میل کو باہر نکال کر پھینک دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔اور جو کچی کوشش نہیں کرتا اس کی طبیعت پھر ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور پھر رسوم و عادات کی جھاگ فطرت کے سونے سے مل کر پہلے کی طرف ایک ناصاف ڈلا بن کر رہ جاتی ہے۔“ رسم ورواج اور قشر خدا کا نور نہیں ( تفسیر کبیر جلد سوم ص 405) قرآن کریم ایک روشی ہے جس کے ذریعہ سے محمد رسول اللہ لوگوں کو اندھیرے سے روشی کی طرف نکال لے جائیں گے۔پھر روشنی کی تشریح إِلى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ سے کی۔یعنی عزیز وحمید خدا کا راستہ ہی اصل روشنی ہے۔ہم دیکھتے ہیں روشنی ک تو ہر ایک پسند کرتا ہے لیکن روشی کی تشریح میں لوگوں کو اختلاف ہوتا ہے۔آج کل لوگ کہتے ہیں یہ نئی روشی کے آدمی ہیں اور مراد جدید فلسفہ اور تہذیب اور اباحت اور لامذہبی کی اتباع ہوتی ہے۔کوئی کہتا ہے مسیحیت خدا کا نور ہے۔کوئی ہندو مذہب کو کوئی اسلام کو خدا کا نور قرار دیتا ہے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسم و رواج اور قشر اور چھلکا خدا کا نور نہیں کہلا سکتا۔نور تو خدا تعالیٰ کی طرف جاے کا نام ہے۔جس کا قدم خدا تعالیٰ کی طرف نہیں اٹھا اسے نور کو حاصل کرنے والا کسی صورت میں نہیں کہہ سکتے۔نور کو وہی پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔“ عورتیں رسمیں اور بدعتیں کرنے پر مجبور نہ کریں ( تفسیر کبیر جلد سوم ص 438) پھر کئی قسم کی رسمیں اور بدعتیں ہیں جن کے کرنے کے لئے عورتیں مردوں کو مجبور کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اگر اس طرح نہ کیا گیا تو باپ دادا کی ناک کٹ جائے گی گویا وہ