بدرسوم و بدعات — Page 38
60 59 سلوک کرنے کے لئے دے تو یہ حرام نہیں۔پس جب کوئی شخص اس نیت سے تقریب پیدا کرتا ہے اور اس میں معاوضہ ملحوظ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا غرض ہوتی ہے تو پھر وہ ایک سونہیں خواہ ایک لاکھ کو کھانا دے منع نہیں اصل مدعا نیت پر ہے نیت اگر خراب اور فاسد ہو تو ایک جائز اور حلال فعل کو بھی حرام بنادیتی ہے۔۔۔ایسا ہی اگر کوئی شخص نسبت اور ناطہ پر شکر وغیرہ اس لئے تقسیم کرتا ہے کہ وہ ناطہ پکا ہو جائے تو گناہ نہیں لیکن اگر یہ خیال نہ ہو بلکہ اس سے مقصد صرف اپنی شہرت اور شیخی ہو تو پھر یہ جائز نہیں ہوتے۔“ دولہا کو سہرا باندھنا ملفوظات جلد 2 صفحہ 389 تا 394) ایک رسم سہرا باندھنا ہے۔اس کے متعلق حضرت مصلح نور اللہ مرقدہ نے فرمایا ہے۔یہ تو آدمی کو گھوڑا بنانے والی بات ہے۔دراصل یہ رسم ہندوؤں سے مسلمانوں میں آئی ہے۔اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔“ نیز حضور نے فرمایا: ”سہرے کا طریق بدعت ہے۔“ شادی بیاہ کی تقاریب میں بے پردگی کا رجحان حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں:۔(الفضل 4 جنوری 1946ء) جب دولہا آئے اور خواہ وہ غیر ہی کیوں نہ ہو محلہ کی عورتیں اس سے پردہ کرنا ضروری نہیں سمجھتیں اور کہتی ہیں اس سے کیا پردہ ہے اور پھر صرف یہی نہیں کہ پردہ نہیں کرتیں بلکہ اس سے محول اور ہنسی کرتی ہیں۔“ (خطبات محمود جلد سوم صفحہ 71) وو حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔جو قباحتیں راہ پکڑ رہی ہیں ان میں سے ایک بے پردگی کا عام رجحان بھی ہے جو یقیناً احکام شریعت کی حدود پھلانگنے کے قریب ہو چکا ہے اور شادی والوں کی اس معاملہ میں بے حسی کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ معزز مہمانوں میں بہت سی حیادار پردہ دار بیبیاں ہوتی ہیں بے دھڑک انٹ سنٹ فوٹوگرافروں یا غیر ذمہ دار اور غیر محرم مردوں کو بلا کر تصویر میں کھنچوانا اور یہ پرواہ نہ کرنا کہ یہ معاملہ صرف خاندان کے قریبی حلقے تک ہی محدود ہے اس بارہ میں واضح طور پر بار بار نصیحت ہونی چاہئے کہ اپ نے اگر اندرون خانہ کوئی وڈیو وغیرہ بنانی ہے تو پہلے مہمانوں کو متنبہ کر دیا جائے اور صرف محدود خاندانی دائرے میں ہی شوق پورے کئے جائیں۔“ ( الفضل 26 جون 2002ء) بڑے بڑے مہر باندھنا ایک رسم نکاح کے موقعوں پر ایسے مہروں کا باندھنا ہے جو انسان ادا ہی نہیں کرسکتا۔ایسی صورت میں جبکہ مہر حیثیت سے زیادہ باندھا گیا ہو اور جھگڑا پیدا ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔تراضی طرفین سے جو ہو اس پر کوئی حرف نہیں آتا اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں۔که نصوص یا احادیث میں کوئی اس کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لوگوں کے مروجہ مہر سے ہوا کرتی ہے ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے او محض نمود کے لئے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے صرف ڈراوے کے لئے یہ لکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کی دینے کی۔میرا مذ ہب یہ ہے کہ جب ایسی