ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 60 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 60

60 بھی آیا جو پہلے یسوع مسیح کے پاس رات کو گیا تھا اور پچاس سیر کے قریب مُر اور خود ملا ہوا لایا پس انہوں نے یسوع مسیح علیہ السلام کی لاش لے کر اسے سوتی کپڑے میں خوشبودار چیزوں کے ساتھ کفنایا جیسا کہ یہودیوں میں دفن کرنے کا دستور ہے اور جس جگہ وہ مصلوب ہوا وہاں ایک باغ تھا اور اس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں کبھی کوئی نہ رکھا گیا تھا پس انہوں نے یہودیوں کی تیاری کے دن کے باعث یسوع کو وہیں رکھ دیا کیونکہ یہ قبر نزدیک تھی“۔( یوحنا 19/38,42) حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کفن میں یوں لیے گئے حضرت مسیح علیہ السلام کا علاج: حضرت مسیح کو جس کپڑے میں لپیٹا گیا اس میں دوائیں لگائی گئیں وہ 14۔25 فٹ لمبا تھا۔اور 3۔7 فٹ چوڑا تھا۔کپڑے کا نصف حصہ مسیح کے جسم کے اوپر لپٹا گیا تھا اور باقی نصف حصہ سر پر اور جسم کے اوپر تھا۔تیار شدہ قبر ایک کھلی کوٹھڑی تھی جو چٹان میں کھدی ہوئی تھی۔یوسف آرمیتیاہ نے حضرت عیسی علیہ السلام کے مجروح بدن کو صلیب سے اُتار کر احتیاط کے ساتھ ایک کشادہ کمرہ نما غار میں رکھ دیا جس کا پہلے سے انتظام کیا گیا تھا۔حکیم نقادیمس نے جو ماہر طبیب تھا مسیح کے زخموں کے علاج کے لئے بہترین ادویات استعمال کیں اور ایک زوداثر اور حد درجہ مفید مرہم آپ کے زخموں کے لئے تیار کی جو آج بھی مرہم عیسی کے نام سے مشہور و معروف ہے۔اس کے علاوہ ایک قدرتی علاج میسر آ گیا کہ شدید زلزلہ سے بعض پہاڑیاں پھٹ گئیں اور ان کے پھٹنے سے تیز ی پیدا ہوئی جو حکیم مذکور کے نظریہ کے مطابق آپ کے سانس کے اجراء کے لئے اکسیر کا حکم رکھتی تھی جب یہ بُو پیدا ہوئی تو حکیم نقاد یمس خوش ہوا کہ