ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 53 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 53

53 بیشک چھوڑ دیا جائے لیکن مسیح کو نہ چھوڑا جائے۔(انجیل متی باب 23،21:27) مسیح کو انہوں نے چھڑوانے نہیں دیا۔یہاں تک کہ جب پیلاطوس نے یہ کہہ دیا کہ میں اس کے خون سے بری ہوتا ہوں تو انہوں نے کہا تم صلیب کا فیصلہ کرو اس کا خون تمہاری اور تمہاری اولادوں کی گردن پر ہو گا۔تب پیلاطوس نے مسیح علیہ السلام کو ان کے حوالے کر دیا کہ اسے لے جاؤ اور صلیب پر لٹکا دو۔ایک کانٹوں کا تاج ان کے سر پر رکھا گیا۔(متی باب 27 آیت 29) حضرت مسیح علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا: اناجیل سے پتہ لگتا ہے کہ اس وقت چھٹا گھنٹہ آ گیا تھا اور چھٹے گھنٹے کے معنی اس زمانہ کے لحاظ سے تین اور چار بجے کے درمیان کے وقت کے ہیں۔اس دن دو اور مجرم بھی پیش ہوئے تھے جن کو پھانسی پر لٹکایا جانا تھا۔“ (تفسیر کبیر سوره مریم) اس زمانہ میں صلیب کراس (f) کی شکل کی ہوتی تھی جس کو صلیب پر لٹکایا جاتا اسے لکڑی کے ساتھ سیدھا کھڑا کر دیا جاتا اور اس کے بازوؤں کو پھیلا کر دو ڈنڈوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا اس کے بعد مجرم کے بازو اور ٹانگیں توڑے جاتے اور اس طرح وہ بھوکا پیاسا صلیب پر لٹکا لٹکا مر جاتا۔شام کا وقت تھا اور تین آدمیوں کو صلیب پر لٹکانا تھا۔پیلاطوس کو ان میں سے حضرت مسیح سے ہمدردی تھی ظاہر ہے وہ بعد میں لٹکائے گئے ہوں گے۔خدا کا پیارا موت سے خائف نہیں تھا۔مگر اس بہت بڑی ذمہ داری کا احساس تھا جو انہیں سونپی گئی تھی کیونکہ بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل کو پیغام حق