ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 54 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 54

54 پہنچانے کا مشن ابھی پورا نہ ہوا تھا اور صلیب پر لٹکانے کا وقت آ پہنچا۔خدائی بشارتوں کی وجہ سے یقین کامل تھا کہ خدا کی مدد ضرور آئے گی۔وہ ایک عالم بے کسی میں اپنے خدا کے حضور گڑ گڑائے کہ ”ایلی ایلی لما سبقتانی“ یعنی اے (متی 27 : 47) میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔”اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے“۔(متی 26 : 39) موت کے خطرے کا سامنا کرنا بڑی آزمائش تھی اس اضطرار پریشانی میں آپ اپنے سے پہلے آنے والے نبی حضرت داؤد کی حالتِ بے کسی کی دعاؤں کو پڑھتے رہے۔میں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں اے خداوند خدائے صادق تو مجھے بچائے گا۔کیونکہ تم نے میرے دکھ پر نگاہ کی ہے اور مصیبت کے وقت میری جان کو محفوظ رکھا ہے۔۔داؤد نبی بھی کہتا ہے کہ وہ موت کے منہ سے بچایا جائے گا وہ لقمہ اجل نہیں بنے گا اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی نے اپنے سولی دئے جانے کی نسبت کوئی خواب دیکھی ہو گی۔اس لئے اُن کے دل میں یہ خوف دامن گیر ہوا کہ اگر میں سولی دیا گیا تو شریر یہودی لعنتی ہونے کی تہمت میرے پر لگائیں گے پس اس وجہ سے انہوں نے جان توڑ دعا کی اور وہ دعا قبول ہو گئی۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 287) ”اس کے بعد یسوع نے جان لیا کہ اب سب باتیں تمام ہوئیں تا کہ نوشتہ پورا ہو تو کہا میں پیاسا ہوں وہاں سرکہ سے بھرا ہوا ایک برتن رکھا تھا۔پس انہوں نے سرکہ میں بھگوئے ہوئے سینچ کو زوفے کی شاخ پر رکھ کر