ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 98 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 98

98۔علیہ السلام کی ہے۔امتہ الباری ناصر کی عرض حال سے پتہ چلتا ہے کہ اس مختصر سی کتاب جو۔۔۔صفحات پر پر مشتمل ہے کے لئے خاصی تحقیق کی گئی۔اور جوں جوں تحقیق کے لئے مطالعہ کیا جاتا رہا۔نئے نئے حقائق سامنے آتے رہے اور موضوع میں دلچسپی بڑھتی رہی۔اور وہ کہتی ہیں کہ آہستہ آہستہ اس موضوع میں اتنی ڈوب گئی کہ بہت سے کتب و رسائل ہمہ وقت زیر مطالعہ رہتے۔وہ سرگزشت لکھنے کی مشکلات کا بھی ذکر کرتی ہیں۔اور کہتی ہیں کہ ”سرگزشت لکھنا آسان کام نہیں۔اور وہ بھی ایسی ہستی کی جو تاریخ انسانی کی سب سے زیادہ متنازعہ فیہ شخصیت ہے۔تحقیق طلب امور میں کوئی حرف حرف آخر نہیں ہوتا۔“ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحقیق طلب امور میں کوئی حرف حرف آخر نہیں ہوتا۔لیکن یہ بات بھی صد فی صد درست ہے کہ تحقیق کی ہر کڑی انگلی کڑی کی طرف توجہ دلاتی ہے۔اور اس کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔اور اس طرح تحقیق کا موضوع وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔عام طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق جو باتیں مشہور ہیں انہیں کا رقم کر دینا بھی ایک حد تک سرگزشت کہلا سکتا ہے۔لیکن تحقیق کے بعد مختلف زاویوں سے ان کی زندگی پر نظر ڈالنا واقعی کوئی آسان کام نہ تھا۔لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ بات نہایت خوش اُسلوبی کے ساتھ سرانجام دی گئی ہے۔ایک مقام پر آپ کی تعلیمات کا نچوڑ اس رنگ میں پیش کیا گیا ہے کہ تمثیلی انداز بھی سامنے آ جائے۔اور پُرحکمت اور چھوٹی چھوٹی سبق آموز کہانیاں بھی انسانی زندگی کو بہتر بنانے کا کام دے سرگزشت میں ان کی پیدائش کا واقعہ ان کے اپنی والدہ سے حسنِ سلوک۔یروشلم کا سفر اور خدا کی طرف سے انہیں برکت کا عطا کیا جانا اور ان کی دعا کا طریق اور پھر ان کے معجزات اور ان معجزات کی حقیقت۔اور اس