ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 18
18 وو ” وہ دونوں (یعنی زکریا اور اُن کی اہلیہ) خدا کے حضور راستباز اور خداوند کے سب احکام و قوانین پر بے عیب چلنے والے تھے۔“ لوقاب باب 1: 6) حضرت زکریا علیہ السلام جو حضرت مریم کے کفیل تھے اور جن کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی وہ ایک دفعہ اپنی عبادت گاہ میں گئے اور انہوں نے دیکھا کہ حضرت مریم جو اُس وقت بہت چھوٹی بچی تھیں اُن کے پاس کھانے پینے کی چیزیں پڑی ہوئی تھیں انہوں نے مریم سے پوچھا کہ انی لک هذا بیٹی تمہیں یہ چیزیں کہاں سے ملی ہیں؟ چھوٹے بچوں سے عام طور پر لوگ محبت اور پیار کی وجہ سے اس قسم کی باتیں پوچھا ہی کرتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا۔هُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ یہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں۔جواب صرف اُس نیک تربیت کا نتیجہ تھا جو حضرت مریم علیھا السلام کی ہوئی تھی۔“ ( تفسیر کبیر پنجم صفحہ 118، 119) ایک نوعمر بچی کا خدا تعالیٰ سے اتنا پیار اور تعلق دیکھ کر حضرت زکریا کے دل میں یہ حسرت جاگ اُٹھی کہ خدا تعالیٰ اُن کو بھی کوئی بچہ دیتا جو دین کا خادم ہوتا اور ان کا نیک ذکر قائم رکھنے کا باعث ہوتا۔چنانچہ حضرت زکریا نے دعا کی: ”اے خدا میں بوڑھا ہو گیا ہوں میری ہڈیاں کمزور اور بال سفید ہو گئے ہیں میری بیوی بھی بوڑھی ہے مجھے بیٹا عطا فرما جو میرا وارث ہو اور ان وعدوں کا بھی وارث ہو جو آلِ یعقوب سے کئے گئے ہیں۔( سورة مريم : 5 تا 7) پیار کرنے والے خدا نے یہ دعا سن لی اور انہیں نیک پاک بیٹا عطا