ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 72
72 بتلاتے ہو اور اسے نیکی اور بدی کی روح مانتے ہو مگر یہ مسئلہ تمہارا جھوٹا ہے کیونکہ سورج اپنے آپ کچھ نہیں کر سکتا وہ صرف اس قادر خدا کی مرضی کے مطابق چلتا ہے جس نے اسے پیدا کیا جس کی مرضی یہ ہے کہ سورج دن میں روشنی دے اور انسان کو محنت کے قابل بنا دے۔بدی کی روح زمین پر ان لوگوں کے دلوں میں رہتی ہے جو خدا کے بچوں کو راہِ راست سے ہٹاتے ہیں اس لئے میں صاف کہتا ہوں کہ خدا سے ڈرو قیامت کے جوار 66 ڈرو۔“ مسیح علیہ السلام کی باتیں سن کر پجاریوں نے فیصلہ کیا کہ اسے کوئی تکلیف نہ دی جائے مگر رات کے وقت جب کہ تمام شہر سو یا ہوا ہو۔اسے شہر کی چار دیواری سے پکڑ کر باہر ویرانہ میں چھوڑ آئیں اس خیال سے کہ اسے جنگلی درندے کھا جائیں گے لیکن خدا کے فضل سے عیسی علیہ السلام نے بلا کسی ہرج مرج کے اپنا راستہ پکڑا اور کسی اگلے ملک کی طرف روانہ ہو گئے۔(مسیح کشمیر میں صفحہ 25، 26) ایران کے مقامی لوگوں کے لہجے میں یسوع آصف بدل کر یوز آصف بن گیا اور اسی نام سے آپ کو پکارا جانے لگا۔اسی سفر میں یوحنا اور آپ کی والدہ آپ سے آ ملے۔ایران کے بعد آپ افغانستان گئے۔اور ہرات میں قیام پذیر ہوئے یہاں کے لوگوں میں تبلیغ کی اور کافی لوگ آپ کے ہم خیال ہو گئے آپ نے یہ بھی کہا کہ ہر انسان کو کچھ نہ کچھ پیشہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ معاشرہ پر بوجھ نہ بنے آپ اپنے فرائض تبلیغ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بڑھئی کا کام کرتے اور بھیڑ بکریاں پالتے تھے۔یہاں آپ کے ارشادات کو احادیث مسیح کے نام سے جمع کیا گیا۔اور حضرت عیسی علیہ السلام کو ناصرہ کے عیسی ابن مریم کشمیری یا عیسی ابن مریم ناصری کشمیری کہتے تھے۔