ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 71
71 تھا۔کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے جن کا نام انجیل میں اسرائیل کی گمشدہ بھیڑیں رکھا گیا ہے ان ملکوں میں آگئے تھے۔جن کے آنے سے کسی مؤرخ کو انکار نہیں ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس ملک کی طرف سفر کرتے اور ان گم شدہ بھیڑوں کا پتا لگا کر خدا تعالیٰ کا پیغام اُن کو پہنچاتے۔“ مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 93) آپ سفر کرتے رہے اور لوگوں کو بتاتے رہے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے اس طرح یہ مسافر ایران پہنچ گئے۔یہاں مخالفت شروع ہو گئی اور آپ گرفتار کر کے زرتشتی مذہب کے بڑے پیشوا کے حضور پیش کئے گئے اس نے کہا: ”اے آدمی کیا تجھے معلوم نہیں کہ ایک زرتشت ہی کو پاک الہام کا فخر حاصل ہوا اس کے بعد کسی اور کو یہ فخر نہیں مل سکتا پس تم کون ہو کہ خدا کے الہام کی توہین کرتے ہو اور مومنین کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرتے ہو۔66 حضرت مسیح علیہ السلام نے جواب دیا: میں کسی نئے خدا کی طرف دعوت نہیں دیتا میں اسی آسمانی باپ کا اُپدیش کرتا ہوں جس نے زرتشت پر الہام کیا تھا۔ازلی خدا نے میری معرفت تمہارے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ ”تم سورج کی پرستش نہ کرو کیونکہ وہ اس دنیا کا صرف ایک حصہ ہے جسے میں نے انسان کے لئے پیدا کیا ہے۔سورج تم کو کام کرنے کے وقت طاقت دینے کے لئے طلوع ہوتا ہے اور آرام دینے کے لئے غروب ہوتا ہے اور یہ کارروائی میرے حکم سے ہوتی ہے جو کچھ تمہارے پاس ہے اور تمہارے چاروں طرف یا تمہارے اوپر یا نیچے موجود ہے ب کچھ میرے ہی طفیل ہے۔تم انسان کے لئے سورج کی پرستش لازمی