ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 67 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 67

67 یہودی حکام کو خبریں مل رہی تھیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام معجزانہ طور پر بیچ کر نکل گئے ہیں انہوں نے اپنا ایک وفد دمشق بھیجا تاکہ معاملہ کی تحقیقات کریں چنانچہ اس وفد کا سر براہ ساؤل حضرت مسیح علیہ السلام سے ملا اور ان کی تعلیمات سے متاثر ہو کر ان کا شاگرد ہو گیا۔اس کا نام پولوس رکھا گیا اس نے یہودیوں کے منصوبہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کو آگاہ کر دیا۔آپ سمجھ گئے کہ دمشق میں ٹھہر نا مناسب نہیں ہو گا چنانچہ وہاں سے بابل کی طرف روانہ ہو گئے۔(Doker, Ernests, If Jesus does not die upon the cross P:75) ނ وہ ایک موقع پر پولوس نے عدالت میں یہ گواہی دی کہ مجھے دمشق باہر حضرت مسیح ملے یہ واقعہ 35 عیسوی کا ہے۔آپ نصیبین بھی گئے یہ میسو پوٹیمیا کے شمال میں ایک قدیم شہر اور چھوٹا سا قلعہ ہے جو موصل اور شام کے درمیان ہے اور بیت المقدس سے ساڑھے چارسو کوس کے فاصلہ پر ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کا نام مسیح اس واسطے رکھا گیا کہ سیاحت بہت کرتے تھے ایک چشمی طاقیہ ان کے سر پر ہوتا تھا اور ایک پتمی کرتہ پہنے رہتے تھے اور ایک عصا ہاتھ میں ہوتا تھا اور ہمیشہ ملک بہ ملک اور شہر بہ شہر پھرتے تھے اور جہاں رات پڑتی وہیں رہ جاتے جنگل کی سبزی کھاتے تھے اور جنگل کا پانی پیتے اور پیادہ سیر کرتے تھے ایک دفعہ سیاحت کے زمانہ میں ان کے رفیقوں نے ان کے لئے ایک گھوڑا خریدا اور ایک دن سواری کی مگر چونکہ گھوڑے کے آب و دانہ اور چارے کا بندوبست نہ ہو سکا اس لئے اس کو واپس کر دیا وہ اپنے ملک سے سفر کر کے نصیبین میں پہنچے جو ان کے وطن سے کئی سو کوس کے فاصلہ پر تھا اور آپ کے ساتھ چند حواری بھی تھے آپ نے حواریوں کو تبلیغ کے لئے شہر میں بھیجا مگر اس شہر میں حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ کی نسبت غلط اور خلاف واقعہ خبریں پہنچی ہوئی تھیں اس لئے اس شہر کے