ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 55
55 اس کے منہ سے لگایا پس جب یسوع نے وہ سرکہ پیا تو کہا کہ تمام ہوا اور سر (يوحنا 19/28,30) جھکا کر جان دے دی۔دراصل اس مشروب میں ایسے اجزاء تھے جو بے ہوش کر دیتے ہیں اور درد کو محسوس ہونے نہیں دیتے۔اس طرح ایک بندے نے اپنی جان کو خدا کے سپرد کر دیا کہ اب جو تیری رضا ہو تو کر۔اور خدا تعالیٰ نے تیز آندھی کا اندھیرا پھیلا کر شام کے چھٹے کو اور قریب کر دیا اس طرح حضرت مسیح کے بہی خواہوں کو موقع مل گیا کہ وہ انہیں جلدی جلدی صلیب سے اتار سکیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کی دکھ بھری آواز سن لی اور ایسے سامان پیدا کئے کہ مسیح صلیب کی موت سے بچ جائیں۔اچانک آندھی چلنے لگی اور زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے۔مقدس مریم اپنے بیٹے کو صلیب پر ٹنگے حسرت و یاس سے دیکھ رہی تھیں ہاتھوں اور پاؤں میں کیل گڑے ہوئے سر پر کانٹوں کا تاج اور بدن پر کوڑے لگنے سے خون ریں رہا تھا۔اگر چہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنے خدا تعالیٰ سے رحم کی پوری امید تھی تاہم اپنی والدہ کے متعلق فطری طور پر فکر بھی تھی۔” یسوع نے اپنی ماں اور اس شاگرد کو جس سے محبت رکھتا تھا پاس کھڑے دیکھ کر ماں سے کہا اے خاتون دیکھ تیرا یہ بیٹا ہے پھر شاگرد سے کہا دیکھ تیری ماں یہ ہے اور اسی وقت وہ شاگرد اسے اپنے گھر لے گیا“۔(يوحنا 19/26,27) حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے زندہ اتارے