ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 52
52 پانی لے کر سب کے سامنے اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا ” میں اس راستباز کے خون سے بری ہوتا ہوں تم جانو“۔وو (متی 27/24) پس یہ دعا کی قبولیت کا پہلا نشان تھا جس خدا نے بچپن میں ایک دفعہ ہیرود لیس کے مظالم سے بچنے کے لئے خواب کے ذریعہ اشارہ دے کر مصر کی طرف ہجرت کرائی تھی اسی خدا نے ایک دفعہ پھر اپنے مسیح کا ساتھ دیا۔پھر بعد اس کے مسیح ان کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا۔سب اس نے (ازالہ اوہام ص 380 بمطابق فرسٹ ایڈیشن ) پیلاطوس کو کہا گیا کہ اگر تم نے اس شخص کو صلیب کی سزا نہ دی تو حاکم وقت تم کو باغی سمجھے گا۔پیلاطوس کا ایک دوست جو بڑا معزز مالدار یہودی تھا دل سے مسیح پر ایمان لا چکا تھا۔دونوں نے مل کر اپنی سی کوشش کی کہ صلیہ تو ہو مگر مسیح کو کم سے کم تکلیف پہنچے۔دیکھا“۔جس دن مسیح پیش ہوئے وہ جمعہ کا دن تھا اور جمعہ کے ساتھ ہی سبت (ہفتہ) کا دن آتا تھا جو یہودیوں کا ایک مقدس تہوار ہے مگر اس دن ایک اور خاص تہوار بھی تھا جس میں رومی حکومت یہود کو خوش کرنے کے لئے ایک قیدی چھوڑا کرتی تھی تاکہ یہود یہ سمجھیں کہ حکومت مذہب کا احترام کرتی ہے اور اس کا دل ان کے مذہب سے متاثر ہے اس تقریب کی وجہ سے پیلاطوس نے یہ کوشش کی کہ وہ حضرت مسیح کو یہ کہہ کر کہ ہم نے کوئی نہ کوئی قیدی تو چھوڑنا ہی ہے چلو اسے ہی چھوڑ دیں آپ کو رہا کر دے۔مگر یہودیوں نے کہا کہ ہم اس تجویز کو نہیں مان سکتے فلاں ڈاکو کو