ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 33
33 ”اے ہارون کی بہن تیرے ماں باپ تو بہت عزت والے تھے ( یہ تمہارے ساتھ کیا قصہ مشہور ہے )۔(سوره مریم : 23) تو آپ نے بڑی طمانیت سے اپنے خدائے مہربان پر توکل کرتے ہوئے اپنے نیک و پاکباز بیٹے کی طرف اشارہ کیا کہ اب یہ اس قابل ہے کہ تمہارے سارے اعتراضات کا جواب دے کر سرخرو ہو سکے۔اس کی طرز کلام اور الہامی سچائیوں کی حامل باتیں تمہارے ہر اعتراض کا روشن جواب دیں گی۔اور ہماری بریت بھی کریں گی۔حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے عزیزوں کو بتایا : میں خدا کا بندہ ہوں۔اس نے مجھے کتاب بخشی ہے اس نے مجھے نبی بنایا ہے اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھے بابرکت بنایا ہے اور جب تک میں زندہ ہوں مجھے نماز اور زکوۃ کی تاکید کی ہے اور مجھے اپنی والدہ سے نیک سلوک کرنے والا بنایا ہے مجھے ظالم اور بد بخت نہیں بنایا۔۔( سورہ مریم : 33) ان الفاظ میں حضرت عیسی علیہ السلام اپنا تعارف کرواتے۔یہ وہ وقت تھا جب انہیں اپنی شخصیت منوانی تھی اور اپنی تمام تر فضیلتوں، صلاحیتوں اور انعامات و فضائل کا ذکر کرنا تھا تا کہ سننے والوں کو اندازہ ہو جائے کہ بات کرنے والا کس حیثیت کا آدمی ہے پھر بھی آپ نے اپنی ذات کے لئے کوئی مبالغہ نہیں کیا اور خدا کا بندہ ہونے پر فخر کیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی بندگی کا اظہار کیا۔ماں کی فرمانبرداری کو بھی تسلیم کیا۔اپنے عقائد بھی بتائے اور اپنے ساتھ آنے والی خیر و برکت کا بھی ذکر کیا۔خدائے واحد کی