ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 28 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 28

28 کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو اس پہاڑ پر چڑھ جا اور پھر اس پر سے اپنے تئیں نیچے گرا دے۔حضرت عیسی نے کہا تجھ پر واویلا ہو، کیا تو نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنی موت کے ساتھ میرا امتحان نہ کر کہ میں جو چاہتا ہوں کرتا ( ضرورة الامام روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 486 ہوں۔66 حضرت عیسی مقام نبوت پر: فرسٹ ایڈیشن صفحہ 16،15) حضرت عیسی ابن مریم اس امتحان میں پورے اُترے اور انہوں نے دنیاوی جاہ و جلال کی طرف رغبت کرنے کی بجائے ایک خدا کی وحدانیت کا اقرار کیا۔آپ اس وقت تکلیل شہر میں تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول اللہ اور کلمۃ اللہ قرار دیا۔مسیح 30 سال کی عمر میں نبی ہوئے“ (تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 202) جوں جوں آپ کے شہرت پھیلی کہ آپ روحانی بیماریوں کو شفا بخشتے ہیں۔بہت لوگ نزد یکی شہروں سے آپ کے پاس جمع ہونے لگے۔یہ لوگ یہودیہ، یروشلم، مردن، دیپلس ، گلیل اور اس کے گرد و نواح سے جمع ہو گئے تو آپ نے انہیں خدا کا پیغام سنایا۔میں اللہ کا بندہ ہوں اور اُس نے مجھے کتاب بخشی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے اور میں جہاں کہیں بھی ہوں اُس نے مجھے بابرکت (وجود) بنایا ہے اور جب تک میں زندہ ہوں مجھے نماز اور زکوۃ کی تاکید کی ہے اور مجھے اپنی والدہ سے نیک سلوک کرنے والا بنایا ہے اور مجھے ظالم اور بد بخت نہیں بنایا۔“ حضرت عیسی نبی اللہ کی تعلیمات : (سورہ مریم : 32 ، 33 ) مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی انہیں