ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 84 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 84

84 لئے مامور کیا تو بنی اسرائیل نے آپ کو وطن سے نکلنے پر مجبور کیا اس پر حضرت مسیح اور آپ کی والدہ دونوں نکل گئے اور دونوں ملک سے باہر زمین میں سیاحت کرتے رہے۔آپ کے عقیدت مند تھے راجہ گوپانند نے ہندوؤں کا اعتراض ان کے سامنے پیش کیا اور آپ کے حکم سے سلیمان نے جسے ہندوؤں نے سند یمان کا نام دیا تھا گنبد مذکورہ کی تکمیل کی 54 عیسوی) تھا اس نے گنبد کی سیڑھی پر لکھا کہ اس وقت یوز آسف نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے اور دوسری سیڑھی کے پتھر پر لکھا کہ آپ بنی اسرائیل کے پیغمبر یسوع ہیں۔“ ( قلمی تاریخ کشمیر بحوالہ وفات مسیح اور احیائے اسلام دوست محمد شاہد صاحب) ایک موقع پر اہلِ شام کے عقیدت مند بھی حاضر ہوئے اور آپ کی تصویر بنائی اور تبرک کے طور پر ساتھ لے گئے۔یہاں بھی آپ کی تعلیم کا وہی طریق تھا تمثیلی انداز اور پُرحکمت اور چھوٹی چھوٹی سبق آموز کہانیاں مثلاً آپ نے فرمایا:- دنیا کی مثال مست ہاتھی کی ہے اور اہل دنیا کی مثال اس شخص کی جو مست ہاتھی کے خوف سے کنوئیں میں جا گرتا ہے۔کسان بونے کے لئے اچھے اچھے بیج نکالتا ہے اور جب ایک مٹھی بھر کر پھینکتا ہے تو کچھ دانے راستے کے کنارے پر گرتے ہیں اور تھوڑی دیر میں چڑیاں چگ جاتی ہیں اور کچھ پتھروں پر گرتے ہیں اور اگر کسی پر ذرا سی مٹی بھی جمی ہوتی ہے تو پھوٹتے ہیں اور سبزہ لہلہاتا ہے مگر جب پتھر پر ان کی جڑ پہنچتی ہے تو جل کر سوکھ جاتے ہیں اور کچھ دانے کانٹوں سے بھری ہوئی زمین پر جا پڑتے ہیں اور جب وہ اُگتے ہیں اور بالیں نکلتی ہیں اور پھلنے پھولنے کا زمانہ قریب آتا ہے تو کانٹوں میں لپٹ کر ضائع و بیکار ہو جاتے ہیں اور جو دانے ایسی