ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 83
83 ایک کپڑے پر بنائی گئی ہے۔تصویر کی تاریخ یقینی طور پر دوسری صدی عیسوی تک پیچھے جاتی ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم ) آئے تو اسے قبول کر لیں۔میر میں آپ ایک خدا رسیدہ نبی اور پاکباز، بابرکت انسان سمجھے جاتے تھے۔(کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے صدر پروفیسر حسنین کی تحقیق روز نامہ مساوات کراچی 5 نومبر 1973 ء ٹائمنز آف انڈیا 6/نومبر 1977ء) وہاں آپ نے شادی کی اور اولاد کی نعمت سے نوازے گئے۔کثرت سے کشمیر میں موجود بنی اسرائیل آپ پر ایمان لائے وہ توریت و انجیل پڑھتے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے۔جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تو مزار پر صلیب بطور نشان کے لگاتے کہ یہ حضرت عیسی یا یوز آسف نبی کے پیروکار کی قبر ہے۔انہوں نے کلیسیا بھی بنائے ان میں ایک خدا کی عبادت ہوتی نماز، روزہ کے بھی پابند تھے ایک عبادت گھر کا نام عیسی بار بھی تھا جہاں دُور دُور سے لوگ آتے اور اُص مقدس مقام سمجھتے تھے حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے کاشغر کا سفر بھی کیا دورانِ سفر ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور وہیں کاشغر میں مدفون ہوئیں۔( قلمی تاریخ کشمیر بحوالہ وفات مسیح اور احیائے اسلام دوست محمد شاہد صاحب) حضرت مسیح علیہ السلام شب و روز عبادت الہی میں مشغول رہتے اور تقویٰ اور پارسائی کے اعلیٰ درجہ کو پہنچ کر خود کو اہل کشمیر کی رسالت کے لئے مبعوث قرار دیا اور دعوت خلائق میں مشغول رہتے چونکہ خطہ کشمیر کے اکثر لوگ 1 مسیح اور آپ کی والدہ حضرت مریم کے اکٹھے ہجرت کرنے اور زمین میں سیاحت کرنے کا ذکر محمد بن حسین مسعود فراء بغوی المتوفی 615 نے اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا اور ان کو دعوت دین کے