ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 78
78 کوئی اولاد ہے جس کے مرنے کا غم ہو کھانے کے لئے جنگل کا ساگ پات، پینے کے لئے چشموں کا صاف پانی اور سونے کے لئے زمین کا بستر ہے۔اور ن کے گم ہو جانے کا کوئی اندیشہ نہیں جب صبح ہوتی تو چل کھڑے ہوتے یہاں تک کہ سفر کرتے کرتے ایک وادی میں پہنچے جہاں ایک اندھا آدمی دیکھا۔جو ہل جل نہیں سکتا تھا۔جذام نے اس کے بدن کو پھاڑ دیا ہوا تھا اس کے اوپر آسمان تھا اور اس کے نیچے وادی اور اس کے دائیں بائیں برف اور سردی تھی مگر ان تکالیف میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کا شکر کیا کرتا تھا عیسی ابن مریم نے اس سے پوچھا کہ ان حالات میں بھی تو خدا کا شکر ادا کرتا ہے تو کس بات پر؟ اس نے جواب دیا:- اے عیسیٰ میں اس لئے اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ میں اس زمانے میں نہیں ہوا جب لوگ تجھے خدا کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا بتائیں گے۔“ (کنز العمال جلد 2 صفحہ 71) اس کشف میں ضعیف مرد کی زبان سے آپ کو یہ خوشخبری ملی کہ اس علاقے کے لوگ آپ پر ایمان لائیں گے یہ وہ لوگ نہیں جو شرک کریں بلکہ یہاں آپ کو وجاہت اور مقبولیت نصیب ہو گی۔مسلسل سفر کی وجہ سے آپ سیاح نبی مشہور ہوئے حتی کہ آپ کو اصل نام سے زیادہ صحیح اور مسیحا کہا جاتا ہے لسان العرب کے ص 431 میں لکھا ہے د عیسی علیہ السلام کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ زمین کی سیر کرتا رہتا تھا اور کہیں اور کسی جگہ اس کو قرار نہ تھا۔تاج العروج شرح قاموس میں لکھا ہے کہ مسیح وہ ہوتا ہے جو خیر اور برکت کے ساتھ مسح کیا گیا ہو۔اس طرح آپ الہی خیر و برکت لئے سفر کرتے ہوئے کشمیر جنت نظیر