ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 22
22 سردی پڑتی تھی کہ چشموں کا پانی جم جاتا۔مگر گرمیوں میں موسم خوشگوار ہوتا۔حضرت مریم کو بیٹا ایک غیر معمولی طریق سے عطا ہو رہا تھا۔ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ زیادہ آبادی والی جگہ چھوڑ کر تنہائی میں چلے گئے۔حضرت مریم الگ تھلگ خاموش عبادت میں مصروف رہتیں یوسف بھی ان کی عبادت میں مخل نہ ہوتے۔اسی عارضی قیام گاہ میں حضرت مریم بیمار ہو گئیں گرمیوں کا موسم تھا کھجور کا پیٹر ہی واحد سہارا تھا اس کو پکڑ لیتیں شدت تکلیف میں ان کے منہ سے نکلتا کاش میں اس تکلیف سے پہلے مرگئی ہوتی۔اسی جگہ وہ پاک وجود اس دنیا میں آیا جس کی بشارتیں خدا تعالیٰ نے دی تھیں۔خدا تعالیٰ نے ان دو پاک وجودوں کیلئے سارے سامان پیدا فرما دیئے تازہ پکی ہوئی کھجوریں بطورِ خوراک مل جاتیں۔پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تو خدائے مہربان کے حکم سے ایک فرشتے نے نشیب کی طرف سے آواز دی کہ اس طرف پانی کا چشمہ ہے حضرت مریم کے لئے یہ جگہ اجنبی تھی انہیں علم نہیں تھا کہ یہاں پانی کا چشمہ بھی ہے۔فرشتے کی آواز سے متوجہ ہو کر انہوں نے جھک کر دیکھا تو پانی کا چشمہ بھی نظر آ گیا۔آپ نے ننھے عیسی کو نہلایا دھلایا خدا کا شکر ادا کیا جس نے بے سروسامانی اور غریب الوطنی میں تازہ کھجور میں عنایت کیں اور وافر پانی عطا کیا۔خدا کی پیشگوئی کے مطابق اس کی خاص منشاء سے اسی کی حفاظت کے سایہ میں حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے۔حضرت مریم ایک ایسے بچے کی ماں بنیں جو ایک نشان کے طور پر عطا کیا گیا تھا۔حضرت مریم کو فطری طور پر گھبراہٹ تھی کہ اب جو بھی سوال کرے گا کیا جواب دوں گی تب خدا تعالیٰ کا پیغام ملا کہ کہ اگر تمہیں کوئی شخص نظر آئے تو اسے کہو کہ آج میں نے خدا کے لئے روزہ رکھا ہوا ہے آج میں کسی سے زیادہ بات نہیں کروں گی۔