ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 21
21 اس کی وجاہت ظاہر ہوگی۔وہ بچپن سے ہی کلام کرے گا جوان ہو کر اپنی نبوت کا اظہار کرے گا۔وہ مناسب الاعضاء ہو گا۔“ اتنی بہت سی خوشخبریاں پا کر بھی مریم گھبرا رہی تھیں وہ اپنی بہن الیشبع کے پاس گئیں جو حضرت زکریا کی بیوی تھیں اور انہیں سارا ماجرا بتایا۔الیشبع سمجھتی تھیں کہ مریم بہت مقدس ہیں۔ان کی آمد سے ہی گھر میں نور پھیل جاتا ہے۔انہوں نے حضرت مریم کو بہت تسلی دی اور یوسف کو ساری بات بتائی۔یوسف بھی بہت گھبرا گئے کیونکہ سب کو علم تھا کہ ابھی صرف منگنی ہوئی ہے وہ لوگوں کے سوالات کا کیا جواب دیں گے خود انہیں ذاتی طور پر مریم کی پاکدامنی کا یقین تھا۔اسی شش و پنج میں تھے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے خواب آیا کہ آپ پاک مریم کو اپنے گھر لے جائیں۔یوسف نے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق اوائل بہار کے دنوں میں سفر شروع کیا چونکہ وہ بیت اللحم کے رہنے والے تھے اس لئے اسی طرف کا رخ کیا۔انجیل میں لکھا ہے کہ ان دنوں وہاں کے بادشاہ قیصر آگسٹس نے مردم شماری کا حکم دیا تھا۔سب لوگ نام لکھوانے آئے تھے اس لئے شہر کی سرائے میں جگہ نہ ملی تو وہ کسی مناسب ہموار جگہ کی تلاش میں نکلے جہاں قیام کیا جا سکے۔فلسطین کی سرزمین قیصر روم کی حکمرانی میں تھی اس کے تین صوبے تھے گلیل، سامریہ اور یہودیہ، صوبہ گلیل میں ایک شہر بیت اللحم تھا۔بیت اللحم یروشلم سے پانچ میل کے فاصلے پر ہے اور ناصرہ سے ستر میل جنوب کی طرف واقع ہے اور بہت ذرخیز پہاڑی علاقہ ہے۔سطح سمندر سے 2350 فٹ بلند ہے اس کے ارد گر دسبز وادیاں ہیں اس میں دو تین چشمے بھی ہیں جن میں سے ایک کا نام چشمہ سلیمان ہے۔یہاں سے سارے شہر میں پانی جاتا تھا۔سرسبزی وجہ سے چرواہے یہاں اپنی بکریاں چرایا کرتے تھے سردیوں میں اتنی شدید کی