ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 16 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 16

16 حضرت حزقیل کی پیشگوئی : جن لوگوں کو شالمنذ قید کر کے لے گیا تھا ان میں ایک حضرت حزقیل بھی تھے جو کہ اُس وقت کے نبی تھے۔جن کا دل یروشلم کی حالت دیکھ کر گڑھا ان کے غم کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ان کو کشفی رنگ میں دکھایا کہ گویا وہ اپنی وفات کے سو سال بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس وقت بنی اسرائیل کو نئی زندگی ملے گی۔حضرت حزقین 586 سال قبل مسیح گزرے ہیں 519 قبل مسیح سے یروشلم کی دوبارہ تعمیر شروع ہوئی 489 قبل مسیح یروشلم مکمل آباد ہو گیا۔انطیوکس یونانی کے زمانہ میں جو 175 قبل مسیح کا ہے یہودیوں پر ایک دفعہ پھر بدامنی کا زمانہ آیا زبردست قتل و غارت ہوا اور یہودی ترک وطن پر مجبور ہو گئے۔اور زیادہ تر ہندوستان کی طرف ہجرت کر گئے۔اس طرح اسرائیلی اور یہود سیاسی لحاظ سے کمزور ہوتے گئے۔پے در پے نافرمانیوں کی وجہ سے اخلاقی کمزوریاں بھی پیدا ہوتی گئیں مثلاً وہ اپنے نبیوں کو قتل کرنے کے منصوبے بناتے۔(سورہ بقرہ : 63 )۔وعدہ کرتے تو پورا نہ کرتے۔سبت کے دن کی مناسب عزت نہ کرتے لوگوں کے مال کو ناجائز طور پر کھا لیتے۔امت موسویہ کی ایک خاتون نے منت مانی: زمین و آسمان کے مالک خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ انسانوں کی اصلاح کے سامان پیدا فرماتا رہتا ہے چنانچہ اسی زمانہ کی بات ہے کہ عمران کے خاندان کی ایک دردمند عورت نے منت مانی کہ اگر خدا مجھے لڑکا عنایت کرے تو میں اسے خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دوں گی اس نے بہت دعا کی کہ خدا تعالیٰ نذر قبول کرے اور اسے برکت دے۔خدا تعالیٰ نے اسے ایک