ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 15
15 نے دین موسوی قبول کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام عمران تھا اس لئے موسوی سلسلہ آلِ عمران کہلایا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یوشع بن نون نے فوجی تربیت اور لمی کوشش کے بعد کنعان پر قبضہ کیا اور کئی جنگوں کے بعد فلسطین اور شام کے دوسرے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا۔حضرت طالوت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ ہوئے یہیں سے بنی اسرائیلی کے عروج کا زمانہ شروع ہوتا ہے آپ کی روحانی اور فوجی تربیت سے اسرائیل سلطنت شام کے شمال و جنوب کی طرف دُور دُور پھیل گئی۔آپ کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں بنی اسرائیل کا سنہرا دور شروع ہوا اور یہ قوم مال و دولت کے اعتبار سے بھی قابل رشک ہو گئی۔تجارت کی غرض سے ان کے جہاز مصر، افریقہ، عرب کے علاوہ موجودہ پاکستان و ہندوستان کے ساحلوں تک آئے اور بہت فائدہ اٹھایا۔آپ نے پہلی دفعہ یروشلم میں بیت المقدس کی تعمیر کی جو اسرائیلیوں کی مقدس عبادت گاہ اور قربان گاہ ہے۔حضرت سلیمان کے بعد قبائل میں پھوٹ پڑ گئی ایک طرف یہودا اور بن یامین کے قبائل ہو گئے اور جنوبی فلسطین میں آباد ہو گئے دوسری طرف بنی اسرائیل کے دس قبائل ہو گئے جنہوں نے شمالی فلسطین میں حکومت قائم کی۔اس انتشار سے فائدہ اٹھا کر آشوری بادشاہ شالمنذر نے حملہ کر دیا۔شالمنذر کے بعد اس کے بیٹے سرجون نے بنی اسرائیل کو شکست دی اور اُن کے دس ہزار آدمیوں کو قیدی بنا کر لے گیا۔شمالی فلسطین کی اس تباہی کے بعد بھی سرجون نے حملہ کیا اور بچے کھچے بنی اسرائیلیوں کو ہانک کر نیوالے گیا اور پھر آرمینیا اور میڈیا کے مختلف علاقوں میں بکھیر دیا یہ تمیں لاکھ سے زائد تھے انہیں کو بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل کہا جاتا ہے۔(ماہنامہ الفرقان اپریل 1967ء)