ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 60 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 60

متعلق تو ایسی روایات رواج پا گئی ہیں کہ اگر وہ درست ہو تیں تو ایسے اشخاص کو مومن شمار کرنا بھی مشکل ہوتا۔چہ جائیکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور نبی اور رسول قبول کیا جاتا۔لیکن چونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان کی نبوت کی تصدیق کی ہے اس لئے ہم انہیں اللہ تعالیٰ کے نبی یقین کرتے ہیں اور ایسی روایات کو وضعی اور افتراء سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ایک نبی کی شان سے بہت بعید ہے۔اور دوسرے وہ انبیاء چونکہ کامل شریعت کے حامل یا پیرو نہیں تھے اس لئے وہ زندگی کے ہر پہلو میں نمونہ دکھا نہیں سکتے تھے اور نہ انہیں اپنی زندگیوں میں ایسا نمونہ بنے کا موقعہ ملا۔مثلا مسیح علیہ السلام کو لے لو۔آپ کی زندگی کے صرف اڑھائی سال کے حالات ہم تک پہنچے ہیں اور باقی سے متعلق ہمیں علم نہیں اور یہ حالات بھی نامکمل ہیں۔اور بعض ایسی روایات ان میں درج ہیں جو ایک نبی کے شایان شان نہیں ہوسکتیں۔مثلاً ان کا ایک شادی کے موقعہ پر پانی کو شراب سے بدل دینا۔یا مریم مگدینی کا اپنے سر کے بالوں کے ساتھ آپ کے پاؤں کی مالش کرنا۔یا آپ کا اپنی والدہ کو ” اے عورت“ کے الفاظ سے خطاب کرنا۔یا انجیر کے درخت کو آپ کا لعنت کرنا کیونکہ اس پر بے موسم کا پھل نہ تھا وغیرہ وغیرہ۔لیکن ایسی باتوں کو نظر انداز کر کے بھی ہمیں آپ کی زندگی کے حالات سے صرف یہ حاصل ہوتا ہے کہ آپ صبر اور حلم اور فروتنی اور بردباری اور دشمنوں کو معاف کر دینے کی تعلیم دیا کرتے تھے۔مگر آپ کی زندگی میں ہمیں ان محدود اخلاق کے اظہار کے مواقع بھی نظر نہیں آتے۔آپ کے دشمن آپ کی زندگی میں جہاں تک انجیل سے ہمیں پتہ چلتا ہے آپ پر غالب رہے اور آپ کو ان پر بھی غلبہ نصیب نہ ہو ا تا کہ ہم دشمنوں کی معافی کا نظارہ دیکھتے اور اپنے لئے اسے نمونہ تصور کرتے۔نہ آپ کی زندگی میں ہمیں اس قسم کا نمونہ نظر آتا ہے کہ انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے اور اپنی بیوی اور اولاد کے ساتھ کیسا اور اپنے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ کیسا اور ایک ملازم کو اپنے آقا کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے اور ایک آقا کو اپنے ملازم کے ساتھ اور بادشاہ کو رعایا کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے۔اور رعایا کو حکومت کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہئے۔اور ایک سپاہی میں کن صفات کا 60