ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 124 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 124

سب سے نازک مرحلہ ہیں اس لئے ضروری ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کا احترام ہمیشہ قائم رہے اور دونوں ایک دوسرے کو ہمیشہ عزت کی نظر سے دیکھ سکیں۔ان تعلقات کو اسلامی معیار کے مطابق سر انجام دینے سے متعلق رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے جس سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ اسلام ان سے متعلق کیا نقطہ نظر قائم کرنا چاہتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ جب تم اپنی بیویوں کے پاس جاؤ تو یہ دعا کرو۔اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَيْبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا۔یعنی اے اللہ ہمیں شیطانی اثرات سے دور کر دے اور اگر تو ہمارے ان تعلقات کے نتیجہ میں اپنے فضل سے ہمیں اولا د عطا فرمائے تو اسے بھی شیطانی اثرات سے محفوظ رکھیو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت سے ہمیں کئی سبق حاصل ہوتے ہیں۔اوّل تو یہی جو میں نے یہاں بیان کیا ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات کا ایک معیار ہمیں معلوم ہو جاتا ہے اور اس امر کی طرف ہمیں رہنمائی ہوتی ہے کہ ان تعلقات کے وقت میاں بیوی کی ذہنی کیفیات کیا ہونی چاہئیں اور اس امر کا پتہ لگتا ہے کہ اس وقت کی کیفیات کا اولاد پر بھی اثر ہوتا ہے اور یہ حقیقت تو اب سائنس کی تحقیقات سے بھی ثابت شدہ ہے اور پھر اس امر کی طرف توجہ ہوتی ہے کہ اولاد کی تربیت اور حفاظت اسی وقت سے شروع ہو جانی چاہیے۔پھر اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اولاد کی صورت کی پیدا کر دے تو مرد کی شفقت اور دلداری میں کئی گنا اور اضافہ ہو جانا چاہئے کیونکہ یہ وقت عورت کے لئے بڑی ذمہ داری اور فکر اور خوف کا وقت ہوتا ہے اور ایا م جمل میں عورت پر دو جانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کی صحت کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اُسے اپنی طبیعت سنبھالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اس لئے ان ایام میں ہر وقت اس کی دلداری مد نظر رہنی چاہئے اور خانہ داری سے متعلق جس قدر ہو سکے اس کی ذمہ داری میں تخفیف کر دینی چاہئے اور خوراک اور چلنے پھرنے اور تازہ ہوا وغیرہ سے متعلق احتیاط ہونی چاہئے اور ہر قسم کے جسمانی اور ذہنی صدمے سے اُسے محفوظ 124