ایک عزیز کے نام خط — Page 123
طرح ہے اگر نرمی سے اس کی تربیت کرو گے تو جس طرف چاہو گے موڑ لو گے لیکن اگر سختی سے اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اندیشہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائے۔پھر جہاں دو انسانوں نے تمام عمر اکٹھے بسر کرنی ہو وہاں کبھی کبھی اختلاف بھی ہو جاتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ایک دوسرے کی بعض باتیں ناپسند بھی ہوں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے عارضی امور پر یا ایسی باتوں پر جو تمہاری طبعیت کے مطابق نہ ہوں جلد بازی نہ کیا کرو۔اول تو تمہیں کیا معلوم ہے کہ جس بات کو تم نا پسند کرتے ہو اس میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کوئی بہت بڑی بھلائی رکھی ہو۔یا جو بات تمہیں زیادہ مرغوب ہے اس میں تمہارے لئے کوئی نقصان کی بات ہو اور پھر جب تم ایک ایسی بات کی طرف توجہ کرتے ہو جو تمہاری طبیعت کے مطابق نہیں تو ان سینکڑوں باتوں کو بھی تو یا درکھو جو تمہیں پسند ہیں۔با ہمی تعلقات سے متعلق فرمایا کہ تمہارے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کی محبت ڈال دی ہے تا کہ تم ایک دوسرے سے تسکین اور راحت حاصل کرو اور تم ایک دوسرے کا لباس بنو۔جیسا میں کہہ چکا ہوں ازدواجی تعلقات کی بناء تقویٰ پر ہونی چاہیے۔جس طرح باقی تمام قدرتی تقاضوں اور جذبات کے پورا کرنے میں حسن نیت اور احتیاط لازم ہے اسی طرح ان تعلقات سے متعلق بھی۔انسان کو بھوک لگتی ہے تو وہ کھاتا ہے لیکن اگر کھانے کو اپنی ذات میں مقصود قرار دے لے تو آہستہ آہستہ سوئے ہضمی پیدا ہو جاتی ہے۔پھر عام صحت خراب ہونے لگتی ہے اور ایسا انسان متواتر کسی نہ کسی عارضہ میں مبتلا ہوتا رہتا ہے۔یہی حالت ازدواجی تعلقات کی ہے کہ برمحل اور اپنی حدود کے اندر تو ان کا استعمال ایک عمدہ خلق ہے لیکن اگر اپنی حدود سے تجاوز کرے تو محض نفسانیت ہے جس کا اثر انسان کے اخلاق اور روحانیت پر پڑتا ہے۔خاوند کے لئے احتیاط لازم ہے کہ بیوی کے جذبات کو ٹھیس نہ لگے اور اُسے کسی قسم کا صدمہ نہ ہو ہ نہ ہو۔یہ انسان کی زندگی میں سب سے نازک رشتہ ہے اور اس رشتہ کے ابتدائی ایام 123