ایک عزیز کے نام خط — Page 122
طرف سے کمال شفقت اور ہمدردی اور دلداری کا سلوک نہ ہو تو بیوی کے نازک احساس کو ٹھیس لگنے کا خطرہ ہے جو ممکن ہے ان دونوں کے باہمی تعلقات پر ایک مستقل ناخوشگوار اثر ڈال دے لیکن ساتھ ہی خاوند کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے تعلقات میں تربیتی رنگ ہونا چاہیے۔مگر تربیت کے پہلو میں بھی شفقت اور ہمدردی کا رنگ ہونا لازم ہے اور ابتداء میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ عموماً اُن کے تعلقات کی مستقل صورت آخر جا کر وہی ہوگی جو شادی کے بعد پہلے چند ماہ یا چند سالوں میں قائم ہو جائے۔بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ اس کے والدین اور عزیزوں کے ساتھ بھی حسن سلوک ہو تا کہ اس کی کسی رنگ میں دل شکنی نہ ہو اور اس کے ناز اور فخر کے جذبات کو جو وہ قدرتاً اپنے خاوند سے متعلق رکھتی ہے کسی قسم کا صدمہ نہ پہنچے۔خاوند قدرتی طور پر توقع رکھتا ہے کہ بیوی اس کے والدین اور عزیزوں کو اپنے والدین اور عزیزوں کی طرح سمجھے اور ان کی فرمانبرداری اور تواضع اور خدمت اور احترام ان کے مراتب کے مطابق کرے۔اسی طرح بیوی کو بھی جائز تو قع ہوتی ہے کہ خاوند بھی اس کے والدین اور عزیزوں کو اپنے والدین اور عزیزوں کی طرح سمجھے اور ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے۔قرآن میں آتا ہے لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ۔یعنی عورتوں کے حقوق بھی ویسے ہی ہیں جیسی کہ اُن پر ذمہ داریاں ہیں۔یہ نہیں چاہیے کہ خاوند اپنے حقوق تو پورے کرائے لیکن عورت کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ یعنی عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے طریق پر زندگی بسر کرو۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ یعنی تم سب میں سے زیادہ نیک وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرتا ہے۔عورتوں کی تربیت سے متعلق آپ نے فرمایا ہے کہ عورت ایک نازک خمدار ہڈی کی سورة البقرة آيت 229 122 سورة النساء - آیت 20