ایک عزیز کے نام خط — Page 118
اور فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ مختلف اخلاق کے لحاظ سے کس جماعت اور کس درجہ میں ہے۔اور اس جماعت بندی سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ متصور ہے کہ انسان کو اخلاقی ترقی کی طرف رغبت ہو اور وہ ہمت نہ ہار بیٹھے۔جب وہ ایک درجہ میں ہو تو کوشش کرے کہ اس سے اوپر کے درجہ میں آجائے اور پھر اس سے بڑے اور اس سے آگے کے درجے میں آجائے۔اگر وہ پست سے پست اخلاقی حالت میں بھی ہو تو بھی اس کو خواہش پیدا ہو جائے گی کہ وہ اپنی اخلاقی اصلاح کی طرف توجہ کرے۔اور ہر درجہ پر اس کی ہمت بڑھتی جائے گی اور وہ محسوس کرتا جائے گا کہ میں نے اس قدر ترقی کر لی ہے۔جیسے ایک بچہ جیسے سکول جاتا ہے تو اس کی توجہ اپنے قریب کے درجوں کی طرف ہوتی ہے اور وہ اس وجہ سے ہمت ہار کے نہیں بیٹھ جاتا کہ مجھے بی اے، ایم اے کی کتابوں کے نام بھی نہیں آتے۔میں بی اے، ایم اے کہاں سے پاس کر سکتا ہوں۔اس کو یہی فکر ہوتی ہے کہ وہ پہلی جماعت سے دوسری جماعت میں چلا جائے یا دوسری سے تیسری میں یا تیسری سے چوتھی میں۔اور جوں جوں وہ ایک جماعت سے بڑھ کر دوسری میں داخل ہوتا ہے تو اس کی ہمت بلند ہوتی جاتی ہے اور اسے اپنے اوپر ایک اعتماد پیدا ہو جاتا ہے اور وہ خوشی خوشی اور تیز تیز ترقی کرنے لگتا ہے۔البتہ ایک سکول جانے والے بچے اور ایک عام انسان کی اخلاقی جماعت بندی میں یہ فرق ضرور ہے کہ بچہ عام طور پر سب مضامین کے لحاظ سے ایک وقت میں ایک ہی درجہ میں ہوتا ہے۔گو بعض خاص طور پر قابل بچوں کو بعض دفعہ خاص خاص مضامین میں اوپر کی جماعت میں بھی شامل کر لیا جاتا ہے لیکن ایک اخلاق کے کالج کے طالبعلم کی جماعت بندی اس طور پر ہوتی ہے کہ کسی خلق کے لحاظ سے وہ ایف اے میں ہے اور کسی خلق کے لحاظ سے بی اے میں اور کسی خلق کے لحاظ سے ایم اے میں یا ان سے نیچے یا اوپر کی جماعتوں میں۔پھر خاص خاص اخلاق اور ان کے دائر عمل اور ان کے آپس میں تطابق سے متعلق اسلام میں تفصیلی بحث اور ہدایات ہیں جنہیں تم ان کتب میں مطالعہ کر سکتے ہو جن کا میں نے حوالہ دیا ہے۔اور یہ مطالعہ تمہیں اس نتیجہ پر پہنچا دے گا کہ کسی اور مذہب میں اخلاق سے متعلق ایسی تفصیلی تعلیم موجود نہیں ہے جیسی اسلام 118