ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 111 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 111

ایک ابتدائی اسلامی جنگ کا واقعہ ہے کہ ایک شخص مسلمانوں کی طرف سے بڑے جوش سے لڑ رہا تھا اور بہادری کے جوہر دکھا رہا تھا اور دشمن کے بہت سے آدمیوں کو اس نے مارا اور زخمی کیا۔لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ میں نے جب رسول اللہ ﷺ کا یہ قول سنا تو میں اس شخص کے پیچھے ہولیا تا میں اس کے انجام کو دیکھوں۔وہ شخص پہلے تو بہت جوش سے لڑتا رہا اور دشمن پر اس نے خوب وار کئے لیکن پھر وہ زخمی ہو کر لڑائی سے ایک طرف ہٹ گیا اور اس نے اپنی تلوار قبضہ کے بل زمین پر کھڑی کی اور اس کی نوک سے اپنا سینہ لگا کر اور اس پر اپنا بوجھ ڈال کر خود کشی کر لی اور اس طرح اپنے جہنمی ہونے پر مہر ثبت کر دی اس شخص سے متعلق معلوم ہوا کہ وہ جنگ میں خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے شامل نہیں ہوا تھا بلکہ اسے مخالف لشکر کے بعض آدمیوں سے دشمنی اور عناد تھا اور اس نے اس موقع کو بدلہ لینے کے لئے غنیمت جانا اور مسلمانوں کی طرف سے لڑائی میں شامل ہو گیا اور ان لوگوں کو قتل یا زخمی کر دیا جن کے ساتھ اس کی دشمنی تھی۔اب کیا تو اس نے بھی وہی جو مسلمان کر رہے تھے اور بظاہر اس نے مسلمانوں کی بہت مدد کی اور انہیں تقویت پہنچائی لیکن وہ جو خدا کی رضا کے لئے لڑ رہے تھے انہوں نے تو جنت حاصل کر لی اور اس شخص نے خود کشی کر کے جہنم کی راہ لی۔اسی طرح ایک جنگ کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی کو دیکھا کہ با وجود کمزور اور نحیف ہونے کے دشمن کو دکھانے کے لئے چھاتی نکال کر اور اکٹر اکٹر کر چل رہے ہیں۔آپ نے فرمایا اکڑ اکٹر کر انا اللہ تعالی کو پسند نہیں لیکن اس وقت مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اس شخص کا اکڑ اکڑ کر چلنا اللہ تعالی کو پسند آیا۔گویا وہی فعل جو عام طور پر ناپسندیدہ تھا، نیت اور محل کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہو گیا۔اسی طرح مرد و عورت کے تعلقات ہیں۔اپنی ذات میں یہ تعلق ایک قدرتی خواہش کا پورا کرنا ہے اور نہ اچھا ہے نہ برا ہے۔اگر اپنے محل پر ہے تو اچھا ہے اور اپنے محل پر نہیں تو برا ہے۔مثلاً ایک شادی شدہ مرد اور عورت آپس میں محبت اور شفقت سے رہتے ہیں اور ایک 111