ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 100 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 100

سب کمالات کا مالک ہے۔وَتَبَارَكَ اسْمُکَ۔اور برکت والا ہے تیرا نام۔وَتَعَالَى جَدُّکَ۔اور سب سے بلند ہے تیرا درجہ۔وَلَا إِلهُ غَيْرُک۔اور تیرے سوا کوئی ہستی پرستش کے لائق نہیں۔اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّحِیم۔میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے ساتھ شیطان سے جور د کیا گیا ہے۔( یعنی میں تمام برے اثرات اور خیالات سے جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ میں آتا ہوں۔) اَلحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْن۔سب کمالات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جو تمام کائنات کو بتدریج ترقی دے کر ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت تک پہنچاتا ہے۔الرَّحْمَنِ الرَّحِیم۔اس کا ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔جو اعمال کے بدلہ دینے کے اوقات اور زمانوں کا مالک ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ( یعنی تیری ہی رضا کو اپنا مقصود ٹھہراتے ہیں اور تیرے ہی اخلاق کی پیروی کرنا چاہتے ہیں) وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔اور صرف تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں (صرف تیرا ہی سہارا ڈھونڈتے ہیں) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہمیں سیدھا رستہ دکھا اور اس پر چلنے اور ترقی کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرما۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِم۔ایسے لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام کیا ( یعنی وہ رستہ جس پر چل کر لوگ تیرے انعاموں کے وارث بنے ) غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِيْن۔نہ ایسے لوگوں کا جن سے تو ناراض ہو گیا اور نہ ایسے لوگوں کا جو ایک دفعہ ہدایت پر کار بند ہو کر بعد میں رستہ سے بھٹک گئے۔( یعنی نہ تو ہم اپنے اعمال سے تیرے غضب کو بھڑ کانے والے ہوں اور نہ بعد میں ہم رستہ گم کر دیں) 100